10 مارچ آن لائین ادخال کی آخری تاریخ، 70 سال عمر کا محفوظ زمرہ بحال، وزیر داخلہ محمود علی، محمد سلیم اور دوسروں کی شرکت
حیدرآباد۔13۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ حج کمیٹی نے حج 2023 ء کے لئے عازمین حج کی خدمات کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ آن لائین درخواستوں کے ادخال میں عازمین حج کی رہنمائی اور مدد کیلئے حج ہاؤز نامپلی میں 10 خصوصی کاؤنٹرس قائم کئے گئے۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی ، صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی محمد سلیم ، صدرنشین وقف بورڈ مسیح اللہ خاں ، صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن اسحاق امتیاز ، رکن اسمبلی نامپلی جعفر حسین معراج اور اگزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی بی شفیع اللہ نے آج درخواستوں کے آن لائین ادخال کاونٹرس کا آغاز کیا۔ اس موقع پر حج 2023 ء کے لئے حکومت کی جانب سے گزشتہ برسوں کی طرح موثر انتظامات کا تیقن دیا گیا ۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی اور صدرنشین حج کمیٹی محمد سلیم نے کہا کہ حج کیمپ کے موثر انتظامات میں حکومت کا مکمل تعاون حاصل رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت میں نئی حج پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا نے آن لائین درخواستوں کے ادخال کا شیڈول جاری کردیا ہے ۔ تلنگانہ حج کمیٹی کو گزشتہ سال بہترین خدمات کا ایوارڈ حاصل ہوا تھا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ نئی حج پالیسی کے تحت زندگی میں صرف ایک مرتبہ حج کمیٹی کے ذریعہ فریضہ حج کو روانگی کی اجازت رہے گی۔ خاتون عازمین کے محرم اور 70 سال سے زائد عمر کے افراد کے ساتھ معاون کے طور پر ایسے افراد جاسکتے ہیں جو سابق میں حج کمیٹی سے فریضہ حج ادا کرچکے ہیں۔ مرکزی حکومت نے 70 سے زائد عمر کے افراد کے محفوظ کوٹہ کو بحال کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ محرم کے بغیر خواتین کے لئے بھی محفوظ کوٹہ رہے گا۔ آن لائین درخواستوں کے ادخال کا آغاز ہوچکا ہے اور 10 مارچ درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ رہے گی۔ درخواستوں کے ادخال کیلئے کوئی فیس نہیں رہے گی اور یہ مفت خدمات رہیں گی۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے ویب سائیٹ پر آن لائین درخواستیں داخل کی جاسکتی ہیں۔ درخواست گزاروں کے پاس انٹرنیشنل پاسپورٹ ہونا چاہئے جو 10 مارچ 2023 ء سے قبل جاری کردہ ہو اور 3 فروری 2024 ء تک کارکرد ہو۔ 45 سال سے زائد عمر کی خواتین محرم کے بغیر درخواستیں داخل کرسکتی ہیں۔ جاریہ سال حکومت کا کوئی خصوصی اور اختیاری کوٹہ نہیں رہے گا۔ ہر کور میں زیادہ سے زیادہ 4 عازمین اور 2 کمسن بچوں کی اجازت رہے گی۔ قرعہ اندازی میں منتخب ہونے والے عازمین کو 300 روپئے فی کس پراسیسنگ فیس کے طور پر ادا کرنے ہوں گے ۔ عازمین حج کو سلیکشن کے فوری بعد بطور اڈوانس 81500 روپئے ادا کرنے ہوں گے۔ دوسری قسط مارچ کے دوسرے یا تیسرے حصہ میں ایک لاکھ 70 ہزار روپئے ادا کرنے ہوں گے ۔ اخراجات کی باقی رقم روانگی سے قبل دی گئی تاریخ پر ادا کرنی ہوگی۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عازمین کیلئے رہائش کا صرف ایک ہی زمرہ رہے گا۔ تلنگانہ عازمین کیلئے حیدرآبادی رباط کے انتظامات کی مساعی جاری ہے اور اس سلسلہ میں نظام رباط کمیٹی کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے گا ۔ حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے بیاگیج فراہم نہیں کئے جائیں گے اور عازمین کو اپنے طور پر انتظام کرنا ہوگا۔ 20 کیلو گرام کے دو سوٹ کیس اور 7 کیلو گرام کا ہینڈ بیاگ کی اجازت رہے گی۔ سعودی عرب میں قیام 30 تا 40 دن پر مشتمل رہے گا۔ حج شیڈول کے مطابق 21 مئی سے ہندوستانی عازمین حج کی روانگی کا آغاز ہوگا جبکہ 3 جولائی سے واپسی شروع ہوگی۔ حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے سم کارڈ فراہم نہیں کئے جائیں گے۔ ہندوستان بھر میں عازمین کی روانگی کیلئے 25 امبارگیشن پوائنٹ منتخب کئے گئے۔ گزشتہ سال فی عازم جملہ اخراجات 387667 ہوئے تھے۔ اس موقع پر حج کمیٹی کے ارکان سید نظام الدین ، جعفر خاں، نادر علی رضوی اور دوسرے موجود تھے۔ر