عالمی برادری کو ایران میں پھانسیوں کو روکنا ہو گا: ایمنسٹی

   

نیویار ک : ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران میں اس سال منشیات سے منسلک جرائم میں ملوث ہونے پر اب تک کم از کم 173 افراد کو پھانسی پر لٹکایا جا چکا ہے۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلہ تین گنا سے زیادہ ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جمعہ کے روز جاری اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران میں رواں برس کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران جتنے لوگوں کو پھانسیاں دی گئیں ہیں، ان میں تقریباً دو تہائی منشیات سے جڑے جرائم میں قصوروار قرار پائے گئے تھے۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے ایمنسٹی کی ڈپٹی ڈائرکٹر ڈائنا التاہوے نے کہا کہ حکام منشیات سے جڑے جرائم میں جس ’شرمناک شرح‘ سے پھانسیاں دے رہے ہیں وہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور “انسانیت کے فقدان اور زندہ رہنے کے حق کی واضح بے حرمتی کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری اس امر کو یقینی بنائے کہ انسداد منشیات کے اقدامات میں براہ راست یا بالواسطہ ایسی کوئی معاونت نہ ہو جس سے زندگی سے محروم کرنے کے من مانے اقدامات یا دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے میں ایران کو مدد ملے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیگر جرائم میں دی جانے والی پھانسی کی سزا پرعملدرآمد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران اب تک کم از کم 282 افراد کی موت کی سزاؤں پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔ یہ گزشتہ برس کی اسی مدت کے دوران پھانسی دی جانے والی تعداد کے قریب دو گنا ہے۔