عالمی حسیناؤں کا دورۂ ورنگل ، غریبوں کے گھروں کو منہدم کردینے کی مذمت

   

’’بلڈوزر کمپنی سے خفیہ معاہدہ ہوا کیا ؟‘‘کانگریس سے کے ٹی آر کا سوال
حیدرآباد۔ 14مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کے ٹی آر نے مس ورلڈ مقابلوں میں حصہ لینے والی حسیناؤں کے دورۂ ورنگل کے موقع پر غریب عوام کے مکانات کو بلڈوز کے ذریعہ منہدم کردینے کی سخت مذمت کی۔ سوشیل میڈیا پلیٹ فارم X کے ذریعہ قائد اپوزیشن لوک سبھا راہول گاندھی سے سوال کیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ورنگل شہر میں سڑک کے قریب رہنے والے غریبوں کے مکانات کو منہدم کردینے پر برہمی کا اظہار کیا۔ بی آر ایس کے رکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ تلنگانہ میں جب سے کانگریس برسراقتدار آئی ہے، تب سے غریبوں کے مکانات اور ان کے روزگار کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ کانگریس حکومت کے اس غیرانسانی سلوک پر کانگریس ہائی کمان اپنے موقف کا اظہار کرے۔ بیوٹی کانٹیسٹ میں حصہ لینے والی حسیناؤں کو خوش کرنے کیلئے غریبوں کو بے گھر کرنا نامناسب ہے، کیا یہی پرجا پالنا (عوامی حکومت) ہے۔ ایک طرف مس ورلڈ مقابلوں کا انعقاد کرتے ہوئے حکومت 200 کروڑ روپئے کی سرکاری رقم ضائع کررہی ہے، محلوں میں دعوتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب غریبوں کے گھروں کو بلڈوزوں کے ذریعہ اُجاڑ دیا جارہا ہے۔ بی آر ایس لیڈر نے کہا کہ کانگریس حکومت کے زوال کا آغاز بی آر ایس کے ورنگل میں سلور جوبلی اجلاس سے ہوچکا ہے۔ اب غریبوں کے گھروں کو نقصان پہنچانے کی کارروائی کانگریس حکومت کو بہت نقصان پہنچائے گی۔ جب بھی ریاست میں انتخابات ہوں گے، بی آر ایس بھاری اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آئے گی۔ کانگریس حکومت کی جانب سے فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپس کیلئے رقم جاری نہیں کی جارہی ہے۔ دواخانوں میں علاج کرانے والوں کیلئے آروگیہ شری فنڈ بھی جاری نہیں کئے جارہے ہیں۔ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے جس کے سبب عوام کے تمام طبقات میں تیزی سے حکومت کے خلاف ناراضگی پھیل رہی ہے۔ 2