عثمانیہ یونیورسٹی میں تلگو ،ہندی کے ساتھ اردو کے لیے کوئی جگہ نہیں

   

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔2۔اگسٹ۔حکومت تلنگانہ ریاست کی اولین اور سب سے بڑی یونیورسٹی جامعہ عثمانیہ کو منظم انداز میں تباہ کرنے کی سازش کررہی ہے! جامعہ عثمانیہ جو تحریک تلنگانہ کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست میں کئی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہ چکی ہے اس کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے ۔ جامعہ عثمانیہ میں پی ایچ ڈی کے داخلوں کے اعلامیہ کی اجرائی تو عمل میں لائی جاچکی ہے لیکن عربی‘ اردو‘ تلگو ‘ ہندی‘اسلامک اسٹڈیز کے علاوہ دیگر مضامین میں پی ایچ ڈی اسکالرس کو داخلہ نہیں حاصل ہوسکے گا۔جامعہ عثمانیہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعلامیہ کے ساتھ زمرہ اول کے داخلوں کے لئے 14مضامین کے متعلق تفصیلات جاری کردی گئی ہیں اور ان کے مطابق عربی‘ ہندی‘ اردو‘ تلگو ‘ تھیٹرس آف آرٹس ‘کناڈا‘ مراٹھی ‘ کے علاوہ اسلامک اسٹڈیز میں کوئی سوپروائزر نہ ہونے اور گائیڈ شپ نہ دیئے جانے کے سبب کسی کو داخلہ حاصل نہیں ہوپائے گا۔ جامعہ عثمانیہ کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ کے مطابق 14 شعبہ جات میں پہلے زمرے کے داخلوں کے لئے جن پی ایچ ڈی طلبہ کو داخلہ دیا جائے گاان میں ہندستانی کی قدیم تاریخ میں 2 انگریزی میں 2 لسانیات میں 12 فارسی میں 2 فلاسفی میں 7 سنسکرت میں 5 داخلے دیئے جاسکتے ہیں اس طرح سے جن 14 شعبہ جات میں داخلوں کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ان میں 8 شعبہ جات ایسے ہیں جن میں کوئی داخلہ کی گنجائش نہیں ہے جس کی بنیادی وجہ گائیڈ شپ کا نہ ہونا ہے۔ طلبہ تنظیموں کے ذمہ داروں کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ پر الزام عائد کیا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت اور انتظامیہ منظم انداز میں یونیورسٹی کی اہمیت و وقعت کو گھٹانے کی سازش کر رہے ہیں کیونکہ جامعہ عثمانیہ کے طلبہ جو مختلف تحریکوں اور تنظیموں سے وابستہ ہوتے ہوئے طلبہ کے مفادات اور عوامی مفادات کے لئے جدوجہد کے ساتھ شفاف حکمرانی کی تحریک چلاتے ہیں انہیں کوئی موقع فراہم نہ کیا جائے۔ عثمانیہ یونیورسٹی ملک کی ان سرکردہ جامعات میں شامل ہے جس کے تحت سینکڑوں کالجس چلائے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود یونیورسٹی کے ذمہ داروں کا پی ایچ ڈی اسکالرس کی تیاری کے متعلق اختیار کردہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ ریاست کی دو اہم زبانوں تلگو اور دوسری سرکاری زبان اردو کے لئے بھی یونیورسٹی میں سپروائزر ،گائیڈ شپ نہ ہونے کے سبب داخلہ کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے دونوں زبانوں سے تعلق رکھنے والوں اور اسلامک اسٹڈیز‘ عربی اور قومی زبان ہندی سے تعلق رکھنے والے طلبہ پی ایچ ڈی میں داخلہ حاصل نہیں کر پا ئیں گے ۔ طلبہ تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت خود قومی زبان ہندی‘ ریاست کی سرکاری زبان اردو‘ اور دوسری سرکاری زبان کے طلبہ کو مواقع فراہم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔