عدالتوں کی اہمیت گھٹانے کی کوشش

   

اپنے ستم کو امن کا دیتے ہو نام تم
ہم اف کریں تو کہتے ہو اعلانِ جنگ تھا
بی جے پی قائدین ملک میں جہاں کہیں جب کبھی انتخابات ہوتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور ایسے بیانات دیتے ہیں جو انتہائی اشتعال انگیز ہوتے ہیں۔ اب تو بی جے پی قائدین کی جانب سے عدالتوں کی اہمیت کو بھی گھٹانے اور ایک طرح سے عدالتوں کے وجود پر ہی سوال پیدا کرنے جیسے بیانات دئے جا رہے ہیں جو انتہائی افسوسناک اور نامناسب عمل ہے ۔ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کا عمل چل رہا ہے ۔ انتخابی مہم پورے زور و شور سے جاری ہے ۔ بی جے پی ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کی اپنی جدوجہد کو شدت کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے اور اس کے قائدین ایسے بیانات دے رہے ہیں جو انتہائی افسوسناک کہے جاسکتے ہیں۔ بنگال میں بی جے پی کے بڑے لیڈر سوویندو ادھیکاری نے انتخابی مہم کے دوران ایک بیان دیا ہے جس سے عدالتوں کی مبینہ طور پر اہمیت گھٹانے کی کوشش ہوتی ہے ۔ ادھیکاری نے ایک انتخابی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو بنگال میں اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو پھر عصمت ریزی کرنے والے ملزمین کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں صبح گرفتار کیا جائے گا اور شام تک انہیں سزائیں دے دی جائیں گی ۔ ادھیکاری کا کہنا تھا کہ جس طرح اترپردیش میں آدتیہ ناتھ اور آسام میں ہیمنتا بسوا سرما جس طرح سے کام کر رہے ہیں اسی طرح سے بنگال میں بھی کیا جائے گا ۔ اس سوویندو اھیکاری نے یہ تو واضح کردیا کہ اترپردیش اور آسام میں ماورائے عدالت کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور عدالتی عمل کا مذاق بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے بنگال میں بھی اسی طرح کی حکمرانی رائج کرنے کی بات کہی ہے ۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی قائدین کے پاس عدالتی کارروائی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ عدالتوں کو خاطر میں لانے تیار نہیں ہیں بلکہ اپنی من مانی کرنے سے گریز نہیں کریں گے ۔ اس طرح کی بیان بازی سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے قائدین کی ذہنیت کسی قانون یا ملک کی عدلیہ کا احترام کرنے والی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے من کی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ اگر مبینہ طور پر عدالتوں کی اہمیت گھٹتی ہے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے ۔
ہنوستان ایک ایسا جمہوری ملک ہے جہاں عوامی اداروں کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔ ملک کی عدلیہ کا ایک بہت بڑا مقام اور باوقار رتبہ ہے ۔ اکثر و بیشتر دیکھا جا رہا ہے کہ بی جے پی کی حکومتیں عدالتوں کا احترام تک کرنے کو تیار نہیں ہیںاور عدالتی احکامات کو بھی اپنے انداز میں توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ایس آئی آر کے عمل کے دوران عدالتوں سے الیکشن کمیشن کو کئی ہدایات جاری کی گئی تھیں لیکن کمیشن نے ان میں سے بیشتر پر عمل آوری سے گریز کیا ہوا ہے ۔ یہ بھی بی جے پی کی تائید و حمایت ہی کا نتیجہ ہے ۔ اترپردیش ہو یا مدھیہ پردیش ہو بہار ہو یا پھر آسام ہو کئی مقامات پر حکومتوں کی جانب سے بلڈوزر کارروائیاں کی گئی ہیں۔ عدالتوں نے اس طرح کی کارروائیوں پر شدید اعتراضات کئے تھے ۔ سرزنش بھی کی گئی تھی ۔ عہدیداروں پر برہمی کا اظہار بھی کیا گیا تھا اس کے باوجو بلڈوزر کارروائیوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے اور نہ ہی کسی طرح کی پشیمانی کا اظہار کیا گیا ہے ۔ جن عہدیداروں پر عدالتوں نے برہمی کا اظہار کیا تھا ان کا عملا تحفظ کیا گیا تھا ۔ یہ بھی در اصل عدالتی احکامات کی مبینہ طور پر ہتک کرنے کی کوشش ہی کہی جاسکتی ہے ۔ اب ایک ذمہ دار لیڈر بھی یہ بیان ے رہے ہیں کہ ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں اپنے طور پر سزائیں دی جائیں گی ۔ یہ در اصل لا قانونیت کو ہوا ینے والی بات ہے اور ایسی بیان بازی کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے اور خود سوویندو ادھیکاری کو عدالت میںپیش کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کی ضرورت ہے ۔
عوام کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے اس طرح کی بیان بازی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے اور جو ذمہ دار سیاسی قائدین ہوتے ہیں انہیں جذباتیت کا شکار ہو کر اس طرح کی باتیں کرنے سے گریزکرنا چاہئے ۔ ملک میں عدلیہ کا باوقار مقام ہے اور اسے مجروح کرنے اور اس کی اہمیت کو گھٹانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ دی جانا چاہئے ۔ تاہم اس طرح کی بیان بازی کو نظرانداز بھی نہیں کیا جانا چاہئے اور ایسے بیانات دینے والوں کے خلاف خو د مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں عدالت میں لا کھڑا کرنے کی ضرورت تاکہ دوسرے کوئی بھی اس طرح کی بیان بازی کرنے کی حماقت کرنے نہ پائیں۔