سپریم کورٹ نے مختلف ججوں کیلئے 5 نام دوبارہ نامزد کئے
نئی دہلی: مختلف ہائی کورٹس میں ججوں کے تقرر کیلئے ایڈوکیٹس کو ترقی دیتے ہوئے نامزد کرنے کے معاملے میں عدلیہ اور عاملہ کے درمیان اختلاف رائے اور رسہ کشی جاری ہے۔ جیسا کہ سپریم کورٹ نے ان 5 ایڈوکیٹس کے ناموں کو مختلف ہائی کورٹس کے ججس بنانے کے لیے دوبارہ نامزد کیا ہے ۔ ان ناموں میں سوربھ کرپان شامل ہیں جو خود کو کھلے طور پر ہم جنس بتاتے ہیں۔ سوربھ کو پہلی بار دہلی ہائی کورٹ کلیجیم نے 2017ء میں جج کے عہدے پر ترقی دینے کی سفارش کی تھی، جس پر مرکز نے ان کے پارٹنر کی سوئیس شہریت کے ساتھ ساتھ ان کے جنسی رجحان کے باعث اعتراض کیا تھا۔ اسی طرح سپریم کورٹ کلیجیم نے آر جان ستیان کے معاملہ میں بھی مرکز کے اعتراض کو مسترد کردیا۔ جان نے وزیراعظم نریندر مودی پر ایک آرٹیکل میں تنقید کی ہے۔ تین دیگر ایڈوکیٹس پی وڈاملائی، رام چندرن کلائی متھی اور کے گووند راجن ہیں۔