مانو میں اُردو میڈیا، ماضی ، حال اور مستقبل پر بین الاقوامی سمینار، سرکردہ صحافیوں کا خطاب
حیدرآباد۔13نومبر (سیاست نیوز) مجاہد جنگ آزادی اور ملک کے پہلے وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی یو م پیدائش کے موقع پر مولانا ابوالکلام آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی میں سہ تقاریب کا انعقاد عمل میں آیا ہے ۔اُردو میڈیا ماضی، حال او رمستقبل کے عنوان پر منعقدہ اس بین الاقوامی کانفرنس کی نگرانی کی شیخ الجامعہ پروفیسرسیدعین الحسن نے کی جبکہ تقریب کاتعارف پروفیسر احتشام احمد خان ‘ ڈین ‘ پرنسپل اسکول ترسیل عامہ وصحافت مولانا ابولکلام آزاداُردو یونیورسٹی نے پیش کیا اور صدر استقبالیہ کے فرائض پروفیسر صدر شعبہ ترسیل عامہ وصحافت پروفیسر محمد فریاد نے انجام دئے اور کلیدی خطبہ نامو رصحافی ‘ کالم نگار او رنغمہ نگا ر ممبئی سے تشریف لائے حسن کمال نے پیش کیا۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد اردو صحافت کے 200 سالہ جشن کو یادگار بنانا ہے۔وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے اپنے صدارتی خطاب میں کانفرنس میں شرکت کرنے پر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ جناب حسن کمال نے کہا کہ اردو کا ماضی متاثر کن رہا ہے حال کچھ کمزور نظر آتا لیکن اس کا مستقبل روشن ہے۔ انہوں نے عصری میڈیا اور آن لائن میڈیا سے پرنٹ میڈیا کو نقصان کے تمام خدشات کو یکسر مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ عصری اور آن لائن میڈیا سے اخبار چلانے کے اخراجات کم ہوں گے کیونکہ اب پرنٹنگ کی ضرورت نہیں رہی۔ انہوں نے ممتاز نغمہ نگار اور مصنف جاوید اختر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اْن کے مطابق آن لائن میڈیا کے بڑھنے سے لوگ زیادہ سنیں گے اور کم پڑھیں گے اور سن کر لوگوں کو اندازہ ہو جائے گا کہ وہ جسے ہندی سمجھتے ہیں وہ حقیقت میں اردو ہے۔معروف صحافی اور رکن پارلیمنٹ سوپن داس گپتا نے کہا کہ پہلا اردو، ہندی اور فارسی اخبار کلکتہ سے شائع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ خود مختلف زبانوں کو اپناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کولکتہ میں جہاں سے اردو صحافت شروع ہوئی تھی وہاں کچھ اردو اخبارات زوال کا شکار ہوئے۔ ان کے مطابق اردو صحافت کا مستقبل ڈیجیٹل میڈیا میں مضمر ہے۔آئی آئی ایم سی، نئی دہلی کے ڈائرکٹر پروفیسر سنجے دویویدی نے کہا کہ ہندوستان میں کہانی کہنے کی روایت بہت پرانی ہے۔ یہاں پر پنچ تنتر، رامائن وغیرہ لکھی گئیں۔ انہوں نے جدوجہد آزادی میں صحافت کے کردار کے بارے میں بتایا اور ہندوستان میں انقلاب کا باعث بننے والی اردو زبان پر روشنی ڈالی۔ جناب حذیفہ وستانوی نے کہا کہ اردو کے چاہنے والوں اور بولنے والوں کا تعلق تمام مذاہب اور خطوں سے ہے۔ انہوں نے جدوجہد آزادی میں اردو زبان کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اردو کو آن لائن پر زیادہ سے زیادہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس میں اردو یونیورسٹی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس موقع پر شعبہ کا لیب جرنل ’’اظہار‘‘ کی رسم اجراء انجام دی گئی۔ ساتھ ہی کانفرنس کے مقالوں کی تلخیص کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ اس کے علاوہ جناب شکیل حسن شمسی کی ’’ماس میڈیا اور صحافت‘‘، پروفیسر شاہد حسین کی ’’طرفہ تماشہ‘‘؛ جناب محمد ولی الدین کی ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘‘ اور جناب اشرف علی کی ’’کارپوریٹ میڈیا :ایک جائزہ‘‘ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ جناب شاہد لطیف، انقلاب ، ممبئی؛ جناب مرزا قمر الحسن بیگ، صدر نشین، جامعہ کوآپریٹیو بینک؛ محترمہ کامنا پرساد، بانی جشن بہاراں؛ جناب شکیل حسن شمسی، جناب حذیفہ وسطانوی نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر احتشام احمد خان نے خیر مقدم کیا۔ پروفیسر محمد فریاد، صدر شعبۂ ایم سی جے نے کارروائی چلائی۔ ڈاکٹر معراج احمد مبارکی نے شکریہ ادا کیا۔ اس کے علاوہ دن بھر تقاریب کا سلسلہ جاری رہا اور رات میں اُردو میڈیاکانکلیو 2022کے بھی شاندارپیمانے پر انعقاد عمل میں آیا۔اس کانکلیو کی صدرات بھی شیخ الجامعہ پروفیسر عین الحسن نے کی جس کاعنوان ’’دنیا میںامن اورمکالمے کے فروغ میںمیڈیاکاکردار‘‘ رکھا گیاتھا۔ملک کے نامور صحافیوں’ ناقدین‘ ادیب‘ مصنفین نے اس میںشرکت کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیاہے۔