سابق وزیراعظم کا معیاری سرکاری دواخانہ میں معائنہ کرائیں گے ، وزیر قانون کا بیان
اسلام آباد، 19 اگست (ایجنسیز)پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے کے لیے خانگی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت نے نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے دیا گیا حکم قیدیوں کو دستیاب طبی سہولیات سے متعلق قانونی دائرہ کار سے آگے ہے، اس لیے حکومت مناسب قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ اعظم نذیر تارڑ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ حکومت نے عدالتی حکم کے مختلف پہلوؤں اور متعلقہ قوانین کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے مطابق حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سزا یافتہ قیدیوں کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے موجود قانونی ضوابط میں نجی اسپتال سے متعلق ایسی ہدایت کی گنجائش واضح نہیں ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ حکومت خاص طور پر عمران خان کے طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال جانے کی ہدایت میں مناسب ترمیم کی درخواست کرے گی۔ حکومت کی خواہش ہے کہ سابق وزیراعظم کا طبی معائنہ کسی سرکاری اعلیٰ درجے کے اسپتال میں کرایا جائے، جبکہ ضرورت پڑنے پر دیگر بڑے طبی اداروں کے ماہرین کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ کے مطابق قانون میں قیدی کی طبی حالت کا جائزہ لینے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا طریقہ موجود ہے۔ یہی بورڈ اس بات کا تعین کرسکتا ہے کہ قیدی کا علاج جیل کے اندر ممکن ہے یا اسے مزید طبی سہولت کے لیے جیل سے باہر اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قیدیوں کو طبی معائنے کے لیے نجی اسپتالوں میں منتقل کرنے کا اصول عام کردیا جائے تو ملک بھر میں ایسے ہزاروں قیدی موجود ہیں جو مختلف بیماریوں اور طبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اسی قانونی طریقہ کار کے تحت عمران خان کے طبی معائنے کا انتظام چاہتی ہے۔
عمران خان علاج کیلئے جیل سے دواخانہ منتقل
اسلام آباد، 19 اگست (یو این آئی) پاکستان کی عدالت عالیہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو طبی علاج کے لیے جیل حکام کی جانب سے اسپتال منتقل کرنے اور کیس کی اگلی سماعت یعنی 16 ستمبر تک اسپتال میں رہنے کی اجازت دینے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی سپریم کورٹ کے بینچ جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل ہیں انہوں نے حکومت کو حکم دیا کہ عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ۔یہ درخواستیں عمران خان کی ہمشیرہ اور ماہر جراح ڈاکٹر عظمیٰ خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جیل میں ان کی صحت بگڑ رہی ہے اور وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، اس لیے انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جائے ۔عدالت نے 73 سالہ سابق وزیر اعظم کے معائنے اور علاج کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی حکم دیا۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ طبی معائنے اور علاج کے دوران ڈاکٹر عظمیٰ خان اور عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان موجود رہیں۔ اس کے علاوہ حکام کو عمران خان کی ان کے اہل خانہ سے ملاقاتیں یقینی بنانے کا بھی حکم دیا گیا۔ اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی ’’روح اور الفاظ‘‘ کے ساتھ عمل درآمد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پارٹی نے اب یہ محسوس کر لیا ہے کہ عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں۔چودھری نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ہر کوئی عدالتوں کے ذریعے ہی رہا ہوا ہے اور عدلیہ قانونی چارہ جوئی اور ریلیف کے لیے بہترین راستہ بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیر اعظم کو ان کی پارٹی کی جانب سے درخواست نہ ہونے کے باوجود بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جارہی تھیں۔عمران خان متعدد مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔2018 میں اقتدار میں آنے والے سابق کرکٹر اپنی مدتِ ملازمت پوری ہونے سے تقریباً ایک سال قبل اپریل 2022 میں پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک ہار گئے تھے ۔تب سے انہیں توشہ خانہ اور بد عنوانی سے متعلق مقدمات سمیت متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ان کی کچھ سزائیں معطل یا کالعدم ہو چکی ہیں جبکہ کئی اپیلیں اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔