عیدالاضحی کا تلنگانہ اور آندھراپردیش میں عقیدت و احترام کے ساتھ انعقاد

   

سنت ابراہیمی کے تحت قربانی، عیدگاہ میرعالم میں ہزاروں فرزندان توحید نے نماز ادا کی، اضلاع میں بھی پرامن انعقاد
حیدرآباد ۔29۔ مئی (سیاست نیوز) دونوں تلگو ریاستوں میں عیدالاضحی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی اور ہزاروں کی تعداد میں فرزاندان توحید نے عیدگاہوں ، کھلے میدانوں اور مساجد میں خشوع و خضوع کے ساتھ نماز عید ادا کی اور پھر قربانی کرتے ہوئے سنت ابراہیمی کی تکمیل کی۔ دونوں ریاستوں میں حکومت کی جانب سے عید کے موقع پر خصوصی انتظامات کئے گئے تھے اور امن و ضبط کی برقراری کیلئے پولیس نے سخت چوکسی برقرار رکھی۔ دونوں ریاستوں کے گورنرس اور چیف منسٹرس نے مسلمانوں کو عید کی مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ عید الاضحی سے سماج میں بھائی چارہ مزید مستحکم ہوگا۔ تلنگانہ میں حیدرآباد اور تمام اضلاع میں مسلمانوں نے بڑی تعداد میں نماز عید کا اہتمام کیا۔ حیدرآباد میں نماز عید کا سب سے بڑا اجتماع عیدگاہ میرعالم میں دیکھا گیا جہاں ہزاروںکی تعداد میں فرزندان توحید نے نماز ادا کی۔ حیدرآباد کے مختلف علاقوں سے مسلمان نماز عید کے لئے عیدگاہ کا رخ کرتے ہیں۔ پولیس اور دیگر محکمہ جات کی جانب سے وسیع تر انتظامات کئے گئے تھے۔ مولانا حافظ و قاری محمد رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد نے نماز عیدالاضحی کی امامت کی اور خطبہ دیا۔ نماز سے قبل مولانا محمد سیف اللہ شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ اور مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنی زندگی میں اسوہ ابراہیمی کو اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی پر آمادگی ظاہر کی اور اللہ تعالیٰ نے بندگی کے اس طریقہ کو قبول کرتے ہوئے تاقیامت مسلمانوں کیلئے قربانی کی سنت کو جاری کردیا۔ مقررین نے کہا کہ عیدالاضحی میں غریب اور مستحق رشتہ داروں کے علاوہ پڑوسیوں کا خیال کیا جانا چاہئے۔ پولیس اور دیگر محکمہ جات نے عیدگاہ کے اطراف موثر انتظامات کئے تھے۔ تاریخی مکہ مسجد میں مولانا محمد لطیف احمد امام مکہ مسجد نے امامت کی اور خطبہ دیا۔ قدیم عیدگاہ مادنا پیٹ ، عیدگاہ بلالی مانصاحب ٹینک ، عیدگاہ گنبدان قطب شاہی اور دیگر عیدگاہوں میں صبح کی اولین ساعتوں میں نماز عیدالاضحی ادا کی گئی۔ زیادہ تر مساجد میں اولین اوقات میں نماز کا اہتمام کیا گیا تاکہ قربانی کا فریضہ بروقت ادا کردیا جائے۔ عیدالاضحی کے موقع پر تین دن تک قربانی کی جاسکتی ہے اور ہفتہ کی شام تک قربانی کی گنجائش ہے۔ حیدرآباد اور ریاست کے کسی بھی حصہ سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی اور پولیس نے اشرار پر کڑی نظر رکھ چکی ہے ۔ اس طرح عیدالاضحی کی خصوصیت یہ رہی کہ مسلمانوں میں بڑے جانوروں کی قربانی سے گریز کرتے ہوئے بھیڑ اور بکریوں کی قربانی کو ترجیح دی۔ حیدرآباد اور اس کے اطراف جانوروں کی فرخت کیلئے تاجرین کثیر تعداد میں چھوٹے جانوروں کے ساتھ موجود تھے۔ بھیڑ بکریوں کی قیمت بھی اس مرتبہ زائد نہیں رہی کیونکہ اطراف کے اضلاع سے بڑی تعداد میں جانوروں کو حیدرآباد منتقل کیا گیا تھا۔مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بڑے جانوروں کی قربانی سے گریز کریں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے عید کے موقع پر صحت وصفائی اور کچرے کی نکاسی کیلئے خصوصی انتظامات کئے تھے۔ واضح رہے کہ ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے شہر کے مضافاتی علاقوں میں جانور منتقل کرنے والی گاڑیوں کو روک کر احتجاج کے کئی واقعات پیش آئے جس کے بعد پولیس نے سخت چوکسی اختیار کرلی ۔ 1/k/m/b