قومی اقلیتی کمیشن کے رکن شہزادی بیگم کا اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد ۔19 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) قومی اقلیتی کمیشن کی رکن سیدہ شہزادی بیگم نے تلنگانہ میں اقلیتوں کی بھلائی سے متعلق مرکز کی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے بارے میں اقامتی اسکول سوسائٹی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے تجاویز پیش کیں۔ رکن قومی اقلیتی کمیشن نے آج مختلف اقلیتی اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ پرنسپل سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود و چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ شاہنواز قاسم ، مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کانتی ویسلی، محمد لیاقت حسین جوائنٹ سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی، پی دھنراج ڈپٹی سکریٹری اقلیتی بہبود، ناگراج سنگھ ڈپٹی ڈائرکٹر اقلیتی بہبود، محترم خیرالنساء اسسٹنٹ ڈائرکٹر کے علاوہ وقف بورڈ، اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی اور فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں نے شرکت کی ۔ شہزادی بیگم نے اقامتی اسکولوں اور جونیئر کالجس کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے غیر سرکاری عہدیداروں کے بجائے محکمہ تعلیم سے وابستہ عہدیداروں کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکول سوسائٹی نے ریجنل کوآرڈینیٹر اور ویجلنس آفیسر جیسے اہم عہدوں پر سرکاری عہدیداروں اور خاص طور پر تعلیم سے وابستہ افراد کا تقرر ہونا چاہئے ۔ انہوں نے غیر سرکاری افراد کی جانب سے اقامتی اسکولوں میں ٹیچرس کے تقررات میں بے قاعدگیوں کی شکایت کی ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کے تعاون سے اقامتی اسکولوں کی تعمیر کے پراجکٹ پر تفصیلات طلب کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت نے 746 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم نے اسکولوں کے قیام کیلئے اراضی کے حصول کے اقدامات سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اقلیتی اقامتی اسکولوں کی تعمیر کیلئے بیشتر اضلاع میں اراضی الاٹ کردی گئی۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ چھوٹے کاروبار کے لئے غریب مسلمانوں کو قرض کی اجرائی سے متعلق سبسیڈی اسکیم کے تحت حکومت نے 50 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ اسکیم پر عمل آوری کیلئے حکومت کی اجازت کا انتظار ہے۔ رکن قومی اقلیتی کمیشن شہزادی بیگم نے سبسیڈی اسکیم کے لئے درخواستوں کی طلبی کے اقدامات کی ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دیگر اسکیمات کے بارے میں جلد ہی ایک اور جائزہ اجلاس طلب کریں گی۔ر