غزہ میں جنگ بندی ‘ اسرائیل کی نئی تجویز امریکہ کو بھیج دی گئی

   

یروشلم : اسرائیل نے فلسطینی تحریک حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے معاہدے کے لیے اپنی تازہ ترین تجویز امریکہ کو بھیجی ہے ۔ میڈیا میں ہفتہ کے روز اس معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی گئی۔لبنان میں حماس کے ترجمان ولید کلیانی نے جمعہ کو اسپوتنک کو بتایا تھا کہ تحریک حماس غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیل کی نئی شرائط سے متفق نہیں ہے ۔ قبل ازیں جمعہ کو میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل جنگ بندی کے منصوبے میں تبدیلی کی کوشش کر رہا ہے جس سے حماس کے ساتھ حتمی معاہدہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے ۔ مبینہ طور پر اسرائیل یہ مطالبہ کر رہا تھا کہ جنگ بندی شروع ہونے کے بعد شمالی غزہ کی پٹی میں واپس لوٹنے پر فلسطینیوں کی اسکریننگ کی جائے ۔میڈیا کے مطابق اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں ہتھیاروں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کا طریقہ کار قائم کیا جائے اور غزہ۔مصر سرحد پر اسرائیلی کنٹرول برقرار رکھا جائے ۔علاوہ ازیں رپورٹ کے مطابق اپ ڈیٹ کردہ تجویز میں ان مقامات کو تبدیل کرنا جہاں اسرائیلی دفاعی افواج کے دستوں کی دوبارہ تعیناتی متوقع ہے ۔اسرائیل اور حماس نے جولائی میں غزہ میں جنگ بندی کے مسئلے پر بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے جو حماس کی قید سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے مشروط ہے ۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے ذریعے اسرائیل کی جانب سے تنازعہ کے حل کیلئے نئے منصوبے کا اعلان کرنے کے بعد یہ مذاکرات ایک ماہ سے زائد عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔ اسرائیلی مذاکرات کاروں اور ثالثوں نے حالیہ ہفتوں میں قطر کے دارالحکومت دوحہ اور مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مذاکرات کے متعدد دور مکمل کیے ہیں تاہم ابھی تک کسی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔