ڈاکٹر مروان اسمر
غزہ حکومت کے میڈیا آفس کے مشیر تیسیر محیسن نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی پالیسیوں کے باعث، جو امدادی سامان اور دیگر بنیادی ضروریات کی غزہ میں آمد کو محدود کر رہی ہیں، غزہ کی پٹی میں بتدریج قحط دوبارہ لوٹ رہا ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ غزہ میں داخل ہونے والی امدادی ٹرکوں کی تعداد جنگ بندی معاہدہ میں طے شدہ مقدار کے صرف 27 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ محیسن نے کہا کہ امداد میں کمی کی اسرائیلی پالیسی صرف خوراک اور انسانی ہمدردی کے سامان تک محدود نہیں بلکہ ایندھن، ڈیزل، پٹرول اور گھریلو گیس تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔ یہ تمام اشیاء فلسطینی خاندانوں کے لئے اپنی روزمرہ زندگی چلانے اور دستیاب خوراک پکانے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔
امداد میں کمی کے باعث غزہ میں قحط کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے سرکاری ادارے محدود وسائل اور غیر معمولی حالات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں کم سے کم سطح پر نبھا رہے ہیں۔ محیسن نے اس بات کی بھی تردید کی کہ غزہ میں کوئی انتظامی خلا موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی ادارے بدستور کام کر رہے ہیں اور عوام کے لئے ضروری خدمات اور کم از کم استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔میڈیا آفس کے مشیر نے بتایا کہ مختلف سرکاری اداروں نے اپنی انتظامی اور انتظامی ذمہ داریاں ’’ٹیکنوکریٹک کمیٹی‘‘ کے حوالے کرنے کے لئے مکمل آمادگی ظاہر کی ہے، تاکہ وہ غزہ پہنچتے ہی اپنا کام شروع کر سکے، جیسا کہ 10 اکتوبر 2025 کے جنگ بندی معاہدہ میں طے کیا گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی قبضے کی جانب سے عائد کردہ طریقہ کار اور شرائط اس عمل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ایک پیچیدہ انسانی بحران: محیسن نے خبردار کیا کہ غزہ میں موجودہ حالات ایک ’’پیچیدہ انسانی بحران‘‘ کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں شہری اب بھی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ وبائی امراض اور بیماریوں کا پھیلاو جاری ہے۔ اس کے علاوہ صحت کے نظام اور بلدیاتی خدمات کی صلاحیت میں نمایاں کمی آ چکی ہے، جبکہ خوراک اور بنیادی رہائشی سامان کی شدید قلت بھی برقرار ہے۔ صحت کا شعبہ ایندھن اور طبی سامان کی مسلسل قلت کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہے۔ محیسن نے بتایا کہ الاقصیٰ اسپتال کی انتظامیہ اپنے تقریباً 50 فیصد بجلی پیدا کرنے والے جنریٹرز بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہے، جس سے مریضوں کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے، خصوصاً گردوں کے مریضوں، قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں، آپریشن تھیٹرز اور انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) میں زیرِ علاج افراد کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
محیسن نے اسرائیلی قبضے پر الزام عائد کیا کہ وہ کمیٹی کی انتظامی ذمہ داری سے نام نہاد ’’زرد لکیر‘‘ کے مشرقی علاقوں کو خارج کر کے زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات بحران کے خاتمے کے لئے پیش کی گئی تجاویز اور طے شدہ اصولوں کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی قبضہ غزہ کے مستقبل کے بارے میں اپنا نقطہ نظر مسلط کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے اور بار بار نئی شرائط اور تصورات پیش کر رہا ہے، جو گزشتہ مہینوں میں زیرِ بحث آنے والی بنیادی مفاہمتوں اور اقدامات سے متصادم ہیں۔ ان کے بقول اس سے عوام کی مشکلات کم کرنے اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے خاتمے کی حقیقی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قحط کا خطرہ دوبارہ غزہ کی پٹی پر منڈلا رہا ہے، جبکہ اسرائیلی قبضے کے زیرِ کنٹرول گزرگاہوں پر فوجی پابندیاں مزید سخت کی جا رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں انسانی امداد اور ریلیف سامان کی ترسیل رک رہی ہے، جبکہ قبضے سے منسلک مسلح گروہوں کو آنے والی امداد لوٹنے کا موقع مل رہا ہے۔
مئی کے آخر میں فلسطینی وزراء کونسل نے اقوامِ متحدہ کی ان رپورٹوں پر تشویش ظاہر کی تھی جن کے مطابق غزہ کی پٹی میں تقریباً 16 لاکھ فلسطینی، جو آبادی کا لگ بھگ 77 فیصد ہیں، انسانی امداد میں کمی اور فنڈنگ کے گھٹنے کے باعث فوری طور پر قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس سے قبل سنَد نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک بیان میں فلسطینی تاجروں کی انجمن کے سربراہ علی الحایک نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد میں مسلسل کمی اور امدادی اداروں کی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کے باعث قحط کی علامات دن بہ دن زیادہ نمایاں ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق غزہ کی موجودہ صورتحال: ’’ایک بے مثال انسانی تباہی کے آغاز کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔‘‘