غیر متعدی بیماریوں کیخلاف مؤثر تدابیر ۔ یونانی طریقہ علاج

   

علاج کے فروغ میں ہمدرد کی کوششوں پر یک روزہ یونانی سی ایم ای کا اختتام
حیدرآباد ۔ 20 جولائی (راست) ہمدرد لیبارٹریز انڈیا کے زیر اہتمام اور قومی ادارہ برائے تحقیق ادویات یونانی برائے امراض جلد (NRIUM-SD)، CCRUM (کونسل برائے مرکزی تحقیقاتی امور طب یونانی) کے اشتراک سے ایک تعلیمی نشست سی ایم ای افتتاحی نشست میں ہمدرد کی ترقی و ترویج میں کوششوں پر روشنی ڈالی گئی منعقد ہوئی۔ اس موقع پر تلنگانہ حکومت کے آیوش ڈائریکٹر ڈاکٹر سری کانت بابو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یونانی کے قدیم آزمودہ علاج مؤثر انداز میں مریضوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ معالجین کی تشخیص اور نسخہ نویسی کی مہارت اہم ہے کیونکہ یہ ایک جامع علاج کا طریقہ ہے جو فطری انداز میں صحت مند عادات کو فروغ دیتا ہے۔ تلنگانہ آیوش ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر وسنت راؤ نے کہا کہ ہمدرد نے اعلیٰ کوالٹی کی ادویات کی کفایتی قیمت پر فراہمی کے ذریعے معالجین کا اعتماد حاصل کیا ہے۔ کمپنی نے مختلف اقدامات کیے ہیں تاکہ یونانی طریقہ علاج کو فروغ مل سکے اور اطباء اپنی پریکٹس میں آسانی محسوس کریں۔ NRIUMSD کے ڈائریکٹر ڈاکٹر یونس منشی نے کہا کہ یہ ادارہ تعلیم و تحقیق کے ذریعے یونانی نظام کی خدمت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ NCDs (Non Communicable Diseases) اور ناقص طرز زندگی کی وجہ سے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ادارہ تحقیق، جڑی بوٹیوں کی کاشت اور انفراسٹرکچر میں بھی ترقی کر رہا ہے۔ ادارے کی تحقیق Vitiligo (داغ سفید) پر مرکوز ہے، اور کئی مؤثر تحقیقی مقالات معروف طبی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ ڈی جی ڈی سی آئی (ڈائریکٹر جنرل کنٹرول آف ڈرگ ایڈمنسٹریشن) قاسم شاہنواز نے اختتامی اجلاس میں شرکت کی اور کہا کہ ہر طب کا نظام بیماری کے علاج اور معاشرے کی خدمت کے حتمی مقصد کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے۔ طب یونانی کو صرف منافع کے لیے نہ اپنایا جائے، بلکہ انسانی ہمدردی اور اخلاقیات پر مبنی بزنس فلسفہ اختیار کیا جائے۔ ڈاکٹر وسیم الرحمن، ڈی آئی جی جنرل انسپکٹر آئی آر ایف پی شادان زیب خان، ڈاکٹر عقیل کی صدارت میں گروپ مباحثہ ہوا۔ اس تقریب میں طب یونانی کے ممتاز ماہرین، طلبہ، اور مختلف اداروں کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حکیم عبدالحکیم اکاڈیمک ایکسیلنس ایوارڈ بھی تقسیم کیے گئے۔ مختلف یونانی کالجز کے طلبہ کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مرحوم حکیم عبد الحمید کی طب یونانی میں خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں ڈاکٹر مہین سہانہ (بنگلور)، ڈاکٹر قاضی اسفیہ (حیدرآباد)، ڈاکٹر دیبہ وجاہت (کیرالہ)، اور ڈاکٹر حسینہ سطوت (چنئی) شامل تھیں۔آخر میں منتظم اعلیٰ ڈاکٹر ایم ماجد (کرنول) نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔