فارمولہ ای ریسنگ معاملہ :کے ٹی آر کو سپریم کورٹ سے راحت نہیں،فوری سماعت سے چیف جسٹس کا انکار، 15 جنوری کو درخواست کی سماعت ہوگی

   

حیدرآباد 9 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کو فارمولہ ای ریسنگ معاملہ میں سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ کے ٹی آر نے اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ کو کالعدم قرار دینے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے اِس کی عاجلانہ سماعت کی درخواست کی جسے سپریم کورٹ نے نامنظور کردیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی زیرقیادت بنچ نے کہاکہ اِس مسئلہ پر فوری سماعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اُنھوں نے 15 جنوری کو کے ٹی آر کی درخواست کی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائیکورٹ میں درخواست مسترد کئے جانے کے بعد کے ٹی آر نے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا جس کے فوری بعد حکومت کی جانب سے کیویٹ پٹیشن دائر کی گئی اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ حکومت کی سماعت کے بغیر کے ٹی آر کی درخواست پر یکطرفہ فیصلہ نہ کیا جائے۔ کے ٹی آر نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ اے سی بی کی جانب سے دائر کی گئی ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیا جائے۔ اُنھوں نے ہائیکورٹ کے سنگل جج کے فیصلہ کو بھی چیالنج کیا۔ کے ٹی آر کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ اِس معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر سماعت کی جائے تاہم سپریم کورٹ نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے 15 جنوری کو سماعت مقرر کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا 15 جنوری کو کے ٹی آر کے وکلاء کے علاوہ تلنگانہ حکومت کے موقف کی سماعت کریں گے۔ ہائیکورٹ کے سنگل جج کے فیصلہ کے بعد کے ٹی آر کو فارمولہ ای ریسنگ معاملہ میں گرفتاری کا اندیشہ ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ دونوں اِس معاملہ کی علیحدہ جانچ کررہے ہیں۔ ہائیکورٹ نے کے ٹی آر کو گرفتار نہ کرنے کے عبوری احکامات جاری کئے تھے تاہم فیصلہ سناتے وقت عدالت نے عبوری احکامات سے دستبرداری اختیار کرلی۔ جس کے نتیجہ میں کے ٹی آر کی مشکلات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ اِسی دوران تلنگانہ ہائیکورٹ نے اینٹی کرپشن بیورو کی جانچ کے موقع پر کے ٹی آر کو اپنا وکیل ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں دی تاہم کے ٹی آر کے وکیل دور سے تحقیقات کا نظارہ کرسکتے ہیں۔ 1