پانچ لاکھ 70 ہزار درخواستوں پر 3 لاکھ 15 ہزار اسناد کی اجرائی، عوام کی تین کروڑ 15 لاکھ کی رقم اکارت ثابت
حیدرآباد۔15۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں راشن کارڈ کی بنیاد پر جاری کئے جانے والے فیملی رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے قبول نہ کئے جانے کے اعلان کے بعد FRC کی اجرائی کے فیصلہ سے ریاست کے عوام یا خاندانوں کا تو کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن ریاستی حکومت کو زائد از ایککروڑ روپئے حاصل ہوچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے 11 اگسٹ کو اس بات کی وضاحت کی گئی کہ الیکشن کمیشن FRC کو بہ حیثیت دستاویز قبول نہیں کرے گا لیکن اس اعلان اور وضاحت تک مجموعی طور پر ریاست بھر میں جملہ5لاکھ 70 ہزار FRC کے لئے درخواستیں وصول کی جاچکی تھیں اور شہری و دیہی علاقوں میں عوام نے اس سرٹیفیکیٹ کے حصول کے لئے درخواستیں داخل کرچکے تھے ۔ 11اگسٹ تک جاری کئے گئے FRC کے متعلق عہدیداروں کا کہناہے کہ می سیوا مراکز سے مجموعی طور پر 3 لاکھ 15 ہزار FRCs کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی تھی۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق FRC کی اجرائی کے لئے حاصل کرنے والوں کو 62 روپئے ادا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن کئی مقامات پر ’فیملی رجسٹرسرٹیفیکیٹ‘ کی اجرائی کے لئے من مانی قیمتوں کی وصولی کے علاوہ کئی مقامات پر 100 روپئے وصول کرنے کی شکایات بھی موصول ہوئی اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو 3 کروڑ 15لاکھ کی رقومات عوام کی ضائع ہوئی ہیں جن میں اگر حکومت کو 62 روپئے کے اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو ریاستی حکومت نے ایک کروڑ95لاکھ 30 ہزار روپئے وصول کئے ہیں لیکن اب یہ سرٹیفیکیٹ کسی کام کا نہیں رہا جس کے لئے حکومت نے 40 تا62 روپئے وصول کئے گئے ہیں ۔ حکومت اگر سروے کی بنیاد پر FRC کی اجرائی کے اقدامات کرتی تو شائد تلنگانہ میں جاری کئے گئے سرٹیفیکیٹ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے قبول کرنے سے انکار نہیں کیا جاتا کیونکہ سروے میں سرکاری عملہ نے گھر گھر پہنچ کر سروے مکمل کیا تھا۔3