لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر اسمبلی سے کانگریس کا واک آؤٹ

   

یادگار شہیدان تلنگانہ پر احتجاج، اسپیکر کو مکتوب حوالے
حیدرآباد۔ کانگریس ارکان اسمبلی نے تلنگانہ اسمبلی سے واک آؤٹ کرتے ہوئے یادگار شہیدان تلنگانہ پر دھرنا منظم کیا۔ حال ہی میں ایڈوکیٹ جوڑے کے قتل اور ریاست میں امن و ضبط کی صورتحال کے مسئلہ پر کانگریس کی جانب سے تحریک التواء پیش کی گئی تھی۔ اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی نے تحریک التواء کو نامنظور کردیا۔ اسپیکر کے فیصلہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کے ارکان اسمبلی سیاہ بیاچس اور سیاہ کھنڈوا پہن کر اسمبلی سے گن پارک میں واقع شہیدان تلنگانہ کی یادگار پہنچے اور احتجاج کیا۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا کے علاوہ ارکان مقننہ ڈی سریدھر بابو، کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی، پی ویریا، سیتکا اور رکن کونسل جیون ریڈی نے ریاست میں امن و ضبط کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایڈوکیٹ جوڑے کے قتل سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ حکومت قاتلوںکی پشت پناہی کررہی ہے۔ ایڈوکیٹ جوڑے کے قتل کے معاملہ میں ٹی آر ایس قائد ملوث ہیں اور انہیں پولیس کے ذریعہ بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پولیس پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ تلنگانہ اسمبلی میں عوامی مسائل کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ بعد میں ارکان اسمبلی کے وفد نے اسپیکر اسمبلی سے ملاقات کی اور مکتوب حوالے کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اپوزیشن کو عوامی مسائل پر اظہار خیال کا موقع نہیں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے کانگریس ارکان کے انحراف کے ذریعہ سی ایل پی کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں بجٹ اور لاء اینڈ آرڈر جیسے مسائل پر اظہار خیال کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام مختلف مسائل کا شکار ہیں اور حکومت کو کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے اسپیکر سے خواہش کی کہ وہ کانگریس ارکان کو اظہار خیال کیلئے مناسب وقت الاٹ کریں۔