موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے اور پرانے شہر میں میٹرو ریل پر توجہ، چیف منسٹر کے اعلان بعد سرگرمیوں میں اضافہ
حیدرآباد ۔ 4 اگست (سیاست نیوز) کانگریس حکومت پرانے شہر کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اسی منصوبے کے تحت میرعالم جھیل پر ’’لندن آئی‘‘ کے طرز پر ’’حیدرآباد آئی‘‘ برج تعمیر کیا جارہا ہے جو اس تاریخی شہر کے تاج میں نگینہ ثابت ہوگا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اسمبلی میں حیدرآباد کی ترقی پر مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اس کا اعلان کیا ہے۔ 2 کیلو میٹر طویل سسپنشن برج تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی تیار کی جارہی ہے۔ یہ سسپنشن برج پی وی ایکسپریس ہائی وے سے لنک ہوگا۔ میرعالم جھیل کی ترقیاتی کاموں کا اگست کے اواخر میں آغاز ہونے کا امکان ہے۔ چیف منسٹر کے اعلان کے بعد محکمہ بلدی نظم و نسق کے اعلیٰ عہدیدار اور ایچ ایم ڈی اے کے عہدیدار اس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ پہلے میرعالم جھیل پر درگم چیرو کے طرز پر کیبل برج تعمیر کرنے کی تجویز تیارکی گئی تھی اس کو مزید خوبصورت بناتے ہوئے حیدرآباد کے سیاحتی مقامات میں ایک اور اضافہ کرنے کی تجویز پر کام کیا جارہا ہے۔ میرعالم جھیل سے متصل زوپارک ہونے کی وجہ سے بھی یہ کوشش سیاحوں کیلئے پرکشش ثابت ہوگی۔ آصف جاہی دورحکومت میں حیدرآباد کے عوام کو پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنے کیلئے دونوں ذخیرہ آب عثمان ساگر، حمایت ساگر تعمیر کئے گئے اسی سے قبل حیدرآباد کے پینے کے پانی کا انحصار میرعالم جھیل ہی تھا۔ یہی جھیل کا پانی عوام کی پیاس بجھاتا تھا۔ حیدرآباد ریاست کے تیسرے نظام کے دورحکومت میں یہ جھیل تعمیر کی گئی جس کو اس وقت کے وزیراعظم میرعالم بہادر کے نام سے اس کو موسوم کیا گیا ہے۔ میرعالم نے 20 جولائی 1804 کو اس جھیل کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور 8 جون 1806 کو اس جھیل کی تعمیر مکمل ہوئی تھی۔ میرعالم جھیل کو خوبصورت سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کیلئے جہاں بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں، وہیں پرانے شہر میں 7.5 کیلو میٹر تک میٹرو ریل چلانے کا ڈی پی آر بھی تیارکیا گیا جس کا ابتدائی تخمینہ 2300 کروڑ روپئے ہے۔ اس طرح موسیٰ ندی کو بھی ترقی دینے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے لندن کا دورہ کرنے کے دوران تھیم ندی کا معائنہ کیا تھا اور ماہرین سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ موسیٰ ندی کو ترقی دینے اور اس کے اطراف و اکناف سیاحتی مراکز کو ترقی دینے کیلئے عالمی ٹنڈرس طلب کرنے اور ماہرین کنسلٹنسی سے بھی تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔ پرانے شہر میں ٹریفک مسائل کی یکسوئی کیلئے سڑکوں کی توسیع اور فلائی اوورس کو تعمیر کرنے کی حکمت عملی تیارکی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ عثمانیہ ہاسپٹل کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے علاوہ گوشہ محل میں 30 ایکر اراضی پر نیا عثمانیہ ہاسپٹل تعمیر کرنے کی بھی تیاری کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ ہائی ٹیک سٹی میں امریکہ کے نیویارک میں موجود ٹائم اسکوائر کے طرز پر حیدرآباد ٹی اسکوائر تعمیر کرنے کا حکومت نے اعلان کیا ہے۔ ٹنڈرس طلب کرنے کی بھی تیاری کی جارہی ہے۔