اٹاوہ: اترپردیش کے ضلع اٹاوہ کی ایک عدالت نے تنتر سادھنا کے نام پر ایک لڑکی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے تانترک کو آٹھ سال قید کی سزا سنائی ہے ۔استغاثہ کے مطابق استغاثہ اور دفاع کے دلائل سننے کے بعد فاضل جج نے تانترک کو آٹھ سال قید کی سزا سنائی۔اٹاوہ کے ڈسٹرکٹ سرکاری وکیل شیوکمار شکلا نے چہارشنبہ کو بتایا کہ کوتوالی علاقے کے پاتھوریا کے رہنے والے سریش کمار سکسینہ نے ایک رپورٹ درج کرائی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان کی بیٹی بیمار ہے اور اس دوران یمنا ندی کے کنارے شمشان گھاٹ پر رہنے والے ایک تانترک نے اسے دیکھا اور کہا کہ وہ بد روحوں سے متاثر ہے ۔تانترک دیپک ورما باشندہ پربیا ٹولا نے بیٹی کو دیکھنے 21 اکتوبر 2023 کوگھر آیا،تنتر کرنے کے بہانے اس کی بیٹی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے اس کی موت ہوگئی۔ تانترک کچھ دیر بعد یہ کہہ کر گھر سے چلا گیا کہ بیٹی زندہ ہے لیکن جب بیٹی 22 اکتوبر تک نہیں اٹھی تو اس سے بدبو آنے لگی۔ بعد میں اس نے پولیس کو اس کی اطلاع دی۔دیپک کے خلاف غیر ارادۃََ قتل کا مقدمہ درج کیا گیا، پولیس نے اسے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ تفتیش کے بعد پولیس نے ان کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش کی۔معاملے کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں ہوئی۔ شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر عدالت نے دیپک اور دیپانند کو مجرم قرار دیتے ہوئے دس سال قید کی سزا سنائی ہے ۔