کیس کے تار حیدرآبادسے جڑے ہونے کا شبہ، گرفتاریوں کا امکان
حیدرآباد۔ 18 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) دہلی شراب اسکام میں سی بی آئی نے اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کردی ہے ۔ کیس کے اہم تار جن کے حیدرآباد سے جڑے ہونے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے وہ آئے دن سی بی آئی کی کارروائی سے درست ثابت ہورہے ہیں ۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے بعد سی بی آئی نے دہلی شراب کیس میں گرفتاریاں بھی کی ہیں ۔ اب ایک کارروائی میں ایسے شخص کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا گیا جس کوکیس میں ملوث افراد اور الزامات کا سامنے کرنے والوں کا مشیر بتا یا گیاہے ۔ سی بی آئی نے سی اے بوچی بابو کو طلب کرلیا ہے اور اس سے پوچھ تاچھ جاری ہے ۔ اس دوران ریاست کی سیاست میں مزید ہلچل پیدا ہوگئی ہے ۔ سیاسی حلقوں میں بوچی بابوسے پوچھ تاچھ پر مختلف باتیں گشت کر رہی ہیں ۔ دہلی شراب کیس میں سی بی آئی کی جانب سے دہلی کے ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسودیا سے پوچھ تاچھ کے بعد ارون رامچندراساکن حیدرآباد سے بھی پوچھ تاچھ جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق گورنٹلہ بوچی بابو جو پیشہ سے سی اے اکاؤنٹنٹ ہے۔ اس نے کئی افراد کے لئے کام کیا ہے ۔ رابن ڈسٹلریز کے علاوہ اس کیس میں ملوث چند افراد بوچی بابو کے اکاونٹنٹ رہ چکے ہیں۔ اس کیس میں ملوث انڈو اسپریٹ کے مالک سمیر مہیندرا جو ڈپٹی چیف منسٹر دہلی منیش سیسوڈیا کے ساتھی ہونے کے سبب انہیں شک کے دائرہ میں لیا گیا جبکہ ای ڈی کی جانب سے گرفتار وجئے نائر دہلی ڈپٹی چیف منسٹر کا قریبی حامی ہے۔ دہلی شراب کیس میں جہاں تک حیدرآباد میں کارروائیوں کا سوال ہے۔ کئی ایک مشتبہ افراد کو نوٹس جاری کی گئی ہے اور امکان ہے حیدرآباد سے گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی ۔ اس خوف سے اکثر مشتبہ افراد نے دہلی کا رخ اختیار کرلیا ہے اور کئی ایک قائدین دہلی میں قیام پذیر ہیں۔ دہلی میں ایک ایم ایل سی کویتا اور ایم پی جوگنا ، پی سنتوش کمار کی موجودگی پر بھی شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے اور مختلف سوشیل میڈیا ذرائع پر اس تعلق سے مختلف انداز میں اطلاعات کو عام کیا جارہا ہے اور سیاستدانوں کی جانب سے ان پر الزامات بھی لگائے جارہے ہیں۔ع