لکشمی دیوی پلی ریزروائر کیلئے 1510 ایکر اراضی درکار

   

شاد نگر ، پرگی میں پانی کے حصول کیلئے جدوجہد ، رکن اسمبلی ویرلاپلی شنکر و دیگر کا خطاب

شادنگر ۔24 جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) شادنگر ایم ایل اے ویرلاپلی شنکر اور پرگی کے ایم ایل اے رام موہن ریڈی نے کہا کہ اپنے علاقے کے مفادات کے لیے انہوں نے وزیر اعلیٰ تک کو بارہا یاد دہانی کرائی اور وزراء کو بھی نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ لکشمی دیوی پلی ریزروائر کے لیے کتنی ہی مشکلات آئیں، ہم نے مل کر اس منصوبے کو ممکن بنایا ہے اور اب شادنگر اور پرگی حلقوں میں پانی پہنچنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ چہار شنبہ کے روز ضلع رنگا ریڈی کے شادنگر حلقے کے چودر گوڑ منڈل میں مجوزہ ریزروائر کے مقام پر ایک بڑے عوامی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ ریاستی حکومت نے منصوبے کے لیے زمین کے حصول کی غرض سے 587 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس موقع پر رنگا ریڈی ضلع کے ایڈیشنل کلکٹر چندرا ریڈی، وقارآباد ضلع کے ایڈیشنل کلکٹر وینکٹا چاری، بحالی و باز آبادکاری کمشنر شیوا کمار نائیڈو، آبپاشی محکمہ کے ای ای دیا نند، سروے افسران، شادنگر آر ڈی او این آر سریتا، مقامی کسان، کانگریس رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ افسران نے بتایا کہ ریزروائر کی تعمیر کے لیے 1510 ایکڑ زمین درکار ہوگی جبکہ نہروں اور دیگر ضروریات کے لیے مزید زمین بھی حاصل کی جائے گی۔ اس میں شادنگر حلقہ کے پدمارم اور دیگر دیہات میں 278.35 ایکڑ زمین شامل ہے ، جبکہ پرگی حلقہ کے سید پلی میں 800 سے زائد ایکڑ اور کلکاچرلہ منڈل کے الاپور میں 83.31 ایکڑ زمین حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں کیونکہ چند کسانوں کی قربانی سے ہزاروں کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ حکومت ہر متاثرہ کسان کو مکمل معاوضہ فراہم کرے گی۔ویرلاپلی شنکر اور رام موہن ریڈی نے کہا کہ آج کا دن تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ برسوں سے عوام جس منصوبے کا انتظار کر رہی تھی ، اس کے لیے حکومت کی جانب سے فنڈز مختص ہونے اور افسران کے دورے کے ساتھ عملی اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کے سی آر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس خطہ کے ساتھ ناانصافی کی اور منصوبے کو نظر انداز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہی منصوبہ کانگریس حکومت کے دور میں حقیقت بننے جا رہا ہے۔ ایم ایل ایز نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی ، وزراء اور اعلیٰ افسران سے متعدد بار ملاقاتیں کیں اور مسلسل کوششوں کے بعد یہ کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے عہد کیا کہ علاقے میں پانی آنے تک وہ آرام نہیں کریں گے۔