دیگر دو ٹیچرس کو سخت وارننگ‘ ویڈیو وائرل ہونے پر محکمہ تعلیم کی کاروائی
لکھنؤ: اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے ایک سرکاری پرائمری اسکول کی ہیڈ مسٹریس کو طلباء کے ایک گروپ کو اسکول کے احاطے میں نماز پڑھنے کی اجازت دینے پر معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کو پیش آیا اورپرنسپل کو ہفتہ کو معطل کر دیا گیا تھا۔ ایک ضلعی سطح کے تعلیمی افسر نے کہا اسکول کے احاطے میں نماز پڑھنا محکمہ کے رہنما خطوط کے خلاف ہے۔یہ کارروائی ایک ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کی گئی جب مبینہ طور پر اسکول کے احاطے میں طلباء کے ایک گروپ کو نماز پڑھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔لکھنؤ بیسک ایجوکیشن آفیسر (بی ایس اے) ارون کمار نے کہا کہ جمعہ کے روز لکھنؤ کے بیسک شکشا نگر سیکٹر۔4 کے پرائمری اسکول میں کچھ بچوں نے نماز پڑھی جو کہ محکمہ کی ہدایات کے خلاف ہے۔ اسکول کے دیگر اساتذہ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔سٹی ایریا زون۔4 لکھنؤ کے بلاک ایجوکیشن آفیسر دنیش کٹیار کی طرف سے کی گئی جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کچھ بچوں نے اسکول کے احاطے میں نماز پڑھی تھی۔تفتیشی افسر کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ اسکول کی پرنسپل میرا یادو کو اتر پردیش گورنمنٹ سرونٹ (ڈسپلن اینڈ اپیل) رولز 1999 کے تحت فوری طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔بی ایس اے نے کہا کہ اس کے علاوہ، اسکول کے دیگر اساتذہ، تہذیب فاطمہ اور ممتا مشرا کو مذکورہ ایکٹ میں ساتھی سمجھتے ہوئے علیحدہ طور پر سخت وارننگ جاری کی گئی ہے۔یو پی حکومت کی اس سلسلہ میں عجیب پالیسی ہے ۔ کلسوشل میڈیا پر غازی آباد کے ایک پرائیویٹ کالج کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ اس ویڈیو میں ایک طالب علم اسٹیج پر ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگا رہا تھا اور پھر اسے ایک خاتون ٹیچر اسٹیج سے اتر کر باہر جانے کو کہتی ہے۔ خاتون ٹیچر نے طالب علم کو ڈانٹتے ہوئے اسے ’گیٹ آؤٹ‘ کہتے ہوئے اسٹیج سے اتار دیا تھا۔ اب اس معاملے میں کالج انتظامیہ کی طرف سے سخت قدم اٹھاتے ہوئے خاتون ٹیچر کو معطل کر دیا گیا تھا۔