آشیش کی حرکت میں مرکزی وزیراجئے مشرا کا بھی رول، لکھیم پور میں بے چینی برقرار
بہرائچ/ لکھیم پور کھیری: کسانوں نے آج دعویٰ کیا کہ لکھیم کھیری میں اتوار کو پیش آئے سانحہ میں صرف آشیش مشرا ملوث نہیں بلکہ اس واقعہ میں آشیش کے باپ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کا بھی رول ہے۔ اترپردیش پولیس نے آشیش کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے، جس نے اتوار کو احتجاجی کسانوں کے گروپ پر اپنی کار چڑھادی جس کے نتیجہ میں کم از کم 4 کسان ہلاک ہوگئے اور 4 دیگر اس کے بعد پیش آئی جھڑپ میں مارے گئے۔ تب سے کسان احتجاج کر رہے ہیں کہ مرکزی وزیر کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے۔ اس کے ساتھ کسانوں نے مہلوکین آخری رسومات انجام نہیں دیں اور مطالبہ کیا کہ تمام خاطیوں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ منگل کو حکام نے اتفاق کیا کہ ایک کسان کا دوسری بار پوسٹ مارٹم کیا جائے گا جس کے بارے میں پہلے پوسٹ مارٹم میں معلوم ہوا ہے کہ اسے گولی نہیں لگی۔ دیگر پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ چار افراد شدید زد و کوب سے ہلاک ہوئے۔ منگل کو افہام و تفہیم کے بعد تین دیگر مہلوکین کی آخری رسومات انجام دی گئی۔اتوار کے بعد سے سارے لکھیم پور میں بے چینی کا ماحول برقرار ہے۔ ریاستی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ اپوزیشن قائدین کو لکھیم پور پہنچنے سے روکا جائے ۔ جو وہاں پہنچ چکے ہیں ، انہیں آج باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا جن میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی شامل ہیں۔