ماؤسٹوں کے خلاف سیکوریٹی فورسیس کی کارروائیوں کو روکنے سی پی آئی کا مطالبہ

   

تلنگانہ کے مالی بحران کیلئے بی آر ایس ذمہ دار، سامبا سیوا راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 7۔ مئی (سیاست نیوز) سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری اور رکن اسمبلی کے سامبا سیوا راؤ نے دہشت گرد ٹھکانوں پر ہندوستانی افواج کی آپریشن سندور کارروائی کا خیرمقدم کیا۔ حیدرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اور کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا۔ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی افسوسناک ہے۔ پہلگام میں پاکستانی دہشت گردوں نے 26 سیاحوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دہشت گرد ٹھکانوں پر ہندوستانی فوج کے حملوں کی مکمل تائید کی۔ اور کہا کہ ہندوستان کی عوام فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمہ تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو مشورہ دیا کہ کشمیری عوام کے مسائل کا حل تلاش کرے تاکہ دوبارہ ترقی ہو۔ سی آئی سی سکریٹری نے چھتیس گڑھ میں ماؤسٹوں کے خلاف سیکوریٹی فورسیس کی کارروائیوں کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ماؤسٹوں کے ساتھ امن مذاکرات کئے جائے۔ انہوں نے مرکزی وزیر بنڈی سنجے کی جانب سے امن مذاکرات کے خلاف بیان بازی پر تنقید کی۔ سی پی آئی سکریٹری نے انکاونٹرس میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ سی بی آئی آپریشن کگار کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آر ٹی سی ملازمین کے مسائل پر حکومت سے بات چیت کی گئی اور یونینوں نے ہڑتال سے دستبرداری اختیار کرلی۔ سابق بی آر ایس حکومت آر ٹی سی کو نقصان پہنچانے کیلئے ذمہ دار ہے۔ ریاست کی معاشی صورتحال کیلئے بی آر ایس کی سابق حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ 10 برسوں میں ملازمین کو تنخواہیں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ادا نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر کو حکومت پر تنقید کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ ان کے دورہ حکومت میں ریاست مقروض ہوچکا ہے۔ سامبا سیوا راؤ نے اسکالرشپس اور فیس باز ادائیگی کے فنڈس جاری کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔1