ممبئی: مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ مقدمہ میں آج ایک انتہائی اہم سرکاری گواہ کی گواہی عمل میں آئی جس کے دوران حکومت (کانگریس)کے دباؤ میں بھگوا ملزمین کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی اجازت دینے کا ضلع کلکٹر پر الزام عائد کیا گیا جسے اس وقت کے ضلع کلکٹر (ناشک) نے مسترد کردیا اور کہا کہ اس نے مقدمے کے متعلق دستاویزات باریک بینی سے مطالعہ کرنے اور اپنی ذہانت کا استعمال کرکے ملزمین کے خلاف آتش گیر مادہ کے قانون یعنی ایکسپلوزیو سبسٹنس ایکٹ 1908کے تحت مقدمہ چلانے کی اجازت دی تھی۔این آئی اے نے آج گواہ نمبر 297 کو عدالت میں گواہی کیلئے طلب کیا تھا جس سے خصوصی وکیل استغاثہ اویناس رسال نے سوالات پوچھے جس کا اطمینان بخش طریقے سے جواب دیتے ہوئے ضلع ناشک کے کلکٹر ایس چوکلنگم نے خصوصی این آئی اے عدالت کے جج اے کے لاہوٹی کو بتایا کہ انسداد دہشت گرد دستہ ATS نے انہیں 16/ دسمبر 2008 کو خط لکھ کر گیارہ ملزمین بشمول سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت کے خلاف خلاف آتش گیر مادہ کے قانون یعنی کے ایکسپلوزیو سبسٹنس ایکٹ 1908کے تحت مقدمہ چلانے کی اجازت طلب کی تھی۔ خط ملنے کے بعد مقدمہ سے متعلق دستاویزات کا بغور مطالعہ کیا تھا اور پھر اپنا ذہین استعمال کرنے کے بعد ملزمین کے خلاف آتش گیر مادہ کے قانون کے تحت مقدمہ قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔