نئی دہلی: محنت اور روزگار کے مرکزی وزیر منسکھ منڈاویہ نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ مہارت کے فروغ کے نقطہ نظر پر نظر ثانی کی جائے اور صرف سرٹیفکیٹ کی بجائے عملی ہنر کے حامل پیشہ ور افراد کو ترقی دینے پر توجہ دی جائے ۔کل دیر رات یہاں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر منڈاویہ نے کہا کہ حکومت اختراع کی حوصلہ افزائی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور افرادی قوت کے لیے لوگوں کو تیار کر کے روزگار پیدا کر رہی ہے ، جس کے لئے ملک میں عالمی ٹیلنٹ سینٹر بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صنعت اور اکیڈمی کے مضبوط رشتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ، ہندوستان کی منفرد ضروریات کے مطابق مہارت کا ماڈل بنایا جا سکتا ہے ۔ ہنر کے فروغ کو سرٹیفیکیشن سے آگے بڑھ کر لوگوں کو عملی مہارت سے آراستہ کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ صنعت اور خود روزگار کے شعبوں کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے ۔ یونین لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ سکریٹری سمیتا داؤرا
نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال، مینوفیکچرنگ اور لاجسٹکس جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک ہنر مند اور قابل عمل افرادی قوت کی اہم ضرورت ہے ۔