مجالس مقامی انتخابات کیلئے مہلت میں توسیع کی درخواست

   

ہائیکورٹ میں درخواست، تحفظات پر عمل آوری میں تاخیر کی وجوہات کا تذکرہ

حیدرآباد۔ 3 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مجالس مقامی کے انتخابات کے لئے ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی مہلت میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے اس سلسلہ میں پٹیشن دائر کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے اپیل کی کہ 30 ستمبر تک مجالس مقامی انتخابات کے انعقاد کے لئے مقررہ مہلت میں توسیع کی جائے۔ مجالس مقامی میں بی سی تحفظات کے مسئلہ پر اسمبلی میں منظورہ بلز گزشتہ 5 ماہ سے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے پاس زیر التواء ہیں۔ پنچایت راج قانون نے ترمیم کے ذریعہ تحفظات کی 50 فیصد حد کو ختم کرنے کے لئے تیار کردہ آرڈیننس کو ریاستی گورنر نے منظوری کیلئے صدر جمہوریہ کے پاس روانہ کردیا ہے۔ مجالس مقامی میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی فراہمی میں رکاوٹوں کے پیش نظر ایڈوکیٹ جنرل کے ذریعہ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی جس میں درخواست کی گئی کہ 30 ستمبر کی مہلت میں توسیع دی جائے تاکہ حکومت بی سی تحفظات کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرسکے۔ عدالت میں کہا گیا ہے کہ صدر جمہوریہ اور گورنر کی جانب سے مثبت فیصلے کی امید ہے۔ لہذا مجالس مقامی کے انتخابات کو کچھ عرصہ تک ملتوی کرنے کی اجازت دی جائے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے 24 جون کو فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو 30 ستمبر تک مجالس مقامی کے انتخابات کا مرحلہ مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس مادھوی دیوی نے یہ فیصلہ سنایا۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کے علاوہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو بھی ہدایت جاری کی تھی۔ اندرون 30 یوم وارڈس کی ازسر نو حد بندی کے سبب حکومت اور الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ سے 60 دن کی اجازت طلب کی تھی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق سرپنچ، ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی کے انتخابات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ حکومت نے طبقاتی سروے کی بنیاد پر پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی گنجائش فراہم کی ہے۔ اب جبکہ حکومت نے ہائی کورٹ سے مزید مہلت طلب کی ہے دیکھنا یہ ہے کہ ہائی کورٹ اس سلسلہ میں کیا موقف اختیار کرے گا۔ 1