مجالس مقامی میں بی سی طبقات کو 34 فیصد تحفظات کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا

   

ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار، آندھراپردیش میں مجالس مقامی انتخابات کو ہری جھنڈی
حیدرآباد۔9 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے مجالس مقامی میں پسماندہ طبقات کو 34 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے خلاف آندھراپردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا ہے ۔ عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف آندھراپردیش حکومت کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کردیا۔ آندھراپردیش ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں پنچایت راج اداروں میں پسماندہ طبقات کو 34 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہوئے جاری کئے گئے دو علحدہ احکامات کو کالعدم کردیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مجموعی تحفظات 50 فیصد سے تجاوز نہیں کرنے چاہئے ۔ حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر کی گئی خصوصی اپیل کی آج جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس ایس ناگو پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔ عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو درست قرار دیتے ہوئے حکومت کی درخواست کو مسترد کردیا۔ حکومت کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی پیش ہوئے اور کہا کہ پسماندہ طبقات کی آبادی کی بنیاد پر حکومت نے تحفظات کا فیصلہ کیا۔ لہذا ہائی کورٹ کی جانب سے تحفظات کو مسترد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عدالت نے مکل روہتگی سے وضاحت طلب کی کہ فیملی سروے کی تفصیلات کے باوجود ہائی کورٹ نے احکامات کو مسترد کیوں کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ ملک میں مجموعی تحفظات 50 فیصد سے تجاوز نہیں ہونے چاہئے اور اس بات کا تعین 1992 میں سپریم کورٹ نے اندرا ساہنی بمقابلہ مرکزی حکومت فیصلہ میں کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ میں پسماندہ طبقات کو مجالس مقامی میں تحفظات فراہم کرنے کی حکومت کی کوششوں کو دھکا لگا ہے۔ دوسری طرف چیف جسٹس سوریا کانت ، جسٹس جے باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے آندھراپردیش میں مجالس مقامی کے انتخابات منعقد کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی مہم کا بہانہ بناتے ہوئے مجالس مقامی کے انتخابات میں تاخیر مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر موجودہ فہرست رائے دہندگان کی بنیاد پر انتخابات منعقد کئے جائیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے SIR کی تکمیل تک مجالس مقامی کے انتخابات ملتوی کرنے کیلئے درخواست دائر کی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے مجالس مقامی کے انتخابات کی راہ ہموار کردی ہے۔1/k