وقف بورڈ ، حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی میں عملہ کی قلت ، وقف بورڈ میں عملہ کی من مانی
حیدرآباد۔19 نومبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں حکومت کو محکمہ اقلیتی بہبود سے کس حد تک دلچسپی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے اداروں میں منظورہ ملازمین کی تعداد کو ابھی تک قطعیت نہیں دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود ان اداروں میں من مانی تقررات اور عہدیداروں کے علاوہ ملازمین کے رشتہ داروں کا تقرر کیا جا رہاہے اور اب صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ ان اداروں میں نامزد عہدوں پر آنے والوں کی جانب سے اپنے رشتہ داروں کے تقرر کو یقینی بنایا جارہا ہے اور ارکان اسمبلی و قانون ساز کونسل بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں بلکہ ان کی جانب سے بھی ان تقررات کے سلسلہ میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا جانے لگا ہے۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ‘ تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی ‘ تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے علاوہ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں خدمات انجام دینے والے ملازمین اور عہدیداروں یا ان اداروں میں سابق میں خدمات انجام دے چکے عہدیداروں یا نامزد عہدوں پر خدمات انجام دینے والوں اور ملازمین کی رشتہ داریوں کی تحقیقات پر انکشاف ہوا ہے کہ ان اداروں میں خدمات انجام دینے والے بیشتر ملازمین سابقہ عہدیداروںکے رشتہ دار ہیں یا پھر نامزد عہدوں پر خدمات انجام دینے والوں نے اپنے رشتہ داروں کو ان ادارہ جات میں ملازمت کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی میں ملازمت کی فراہمی کے سلسلہ میں کن رہنمایانہ خطوط پرعمل کیا گیا ہے اس کے متعلق کوئی کچھ نہیں بتا سکتا اسی طرح تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کی بھی حالت ہے جہاں اسکیمات سے زیادہ تنخواہوں پر خرچ کرنے جیسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں اور اب ملازمین کی تعداد 45 تک پہنچ چکی ہے۔تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے علاوہ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں بھی عملہ کے تقرر کے لئے صرف سفارشات کو نظر میں رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے ان اداروں میں کوئی کام سلیقہ سے نہیں کیا جاتا۔م