احتجاجی نوجوانوںکی گرفتاری کی مذمت، تلنگانہ میں ریونت ریڈی کا ہٹلر راج:ہریش راؤ
حیدرآباد۔ 29 جون (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے محکمہ پولیس میں موجود 20 ہزار مخلوعہ جائیدادوں پر فوری تقررات کرنے کا مطالبہ کیا۔ پولیس ریکروٹمنٹ بورڈ کے روبرو احتجاج کرنے والے بیروزگار نوجوانوں پر پولیس لاٹھی چارج کی سخت مذمت کی۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ سڑکوں پر اپنے جائز حقوق اور ملازمتوں کے لئے پرامن احتجاج کرنے والے امیدواروں کو پولیس کے ذریعہ سڑکوں پر گھسیٹنا اور انہیں غیر قانونی طور پر گرفتار کرنا انتہائی شرمناک ہے۔ جو چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے آمرانہ اور ظالمانہ رجحانات کو واضح کرتا ہے۔ ہریش راؤ نے کانگریس پارٹی کو تنقید کرتے ہوئے یاد دلایا کہ اقتدار حاصل کرنے کے پہلے سال 2 لاکھ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وعدے میں حکومت کی ناکامی پر بیروزگار نوجوان پر امن احتجاج کررہے ہیں لیکن ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے اور گرفتاریاں عمل میں لاتے ہوئے حقوق مانگنے والوں کو سزا دی جارہی ہے۔ ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی ریاست میں جمہوریت کا گلا گھونٹ کر ہٹلر راج چلا رہے ہیں۔ پرامن احتجاج کرنے والے امیدواروں کو جرائم پیشہ افراد کی طرح حراست میں لینا تلنگانہ کی جمہوری تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ گرفتار نوجوانوں کو غیر مشروط رہا کرنے کا پولیس اور حکومت سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ خود ڈی جی پی نے محکمہ پولیس میں 20 ہزار مخلوعہ جائیدادیں ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ لہذا حکومت فوری ان جائیدادوں پر تقررات کے لئے نوٹیفکیشن جاری کریں۔ بی آر ایس پارٹی ملازمتوں کے معاملے میں بیروزگار نوجوانوں کے ساتھ کھڑے رہے گی۔ سڑکوں پر احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ ایوانوں میں اس کو موضوع بحث بنائے گی۔ 2؍F