میزورم اور میگھالیہ سرفہرست ، آندھراپردیش ، ٹاملناڈو اور تلنگانہ میں تمباکو کا کم استعمال
حیدرآباد ۔یکم جولائی (سیاست نیوز) ملک میں تمباکو نوشی کے خلاف سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مہم کے باوجود ملک میں تمباکو کے استعمال کے رجحان میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ 18 سال سے زائد عمر کے افراد میں تمباکو کے استعمال پر سروے کیا گیا جس کے مطابق قومی سطح پر تمباکو کا استعمال کرنے والوں کی تعداد 36.3 فیصد درج کی گئی ہے۔ ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد مختلف ہے۔ سروے کے مطابق شمال مشرقی ریاستوں میں تمباکو کے استعمال کا رجحان زیادہ پایا گیا ہے اور ان میں بھی میزورم اور میگھالیہ سرفہرست ہے۔ میزورم میں 73.6 فیصد افراد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جبکہ میگھالیہ میں یہ تعداد 57.8 فیصد درج کی گئی ۔ جنوبی ہند کی ریاستوں میں تمباکو کے استعمال کا رجحان کم ہے۔ ٹاملناڈو ،کیرالا اور آندھراپردیش میں دیگر ریاستوں کے مقابلہ مردوں میں تمباکو کے استعمال کا رجحان کم پایا گیا ہے۔ علاقائی اعتبار سے تمباکو کے استعمال کنندگان کی تعداد مختلف ہے۔ عوامی صحت کے تحفظ اور تمباکو کے استعمال سے کینسر جیسی مہلک بیماری کے بارے میں شعور بیداری مہم سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی کے علاوہ گٹھکا اور دیگر پان مصالح کے استعمال کو بھی مختلف مہلک امراض کا سبب بتایا گیا ہے ۔ اروناچل پردیش ، آسام ، بہار ، اترپردیش ، مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ ، اڈیشہ ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں تمباکو کا استعمال کرنے والوںکی تعداد 45 تا 50 فیصد درج کی گئی۔ تلنگانہ میں 21.1 فیصد ، کرناٹک 24.2 فیصد، آندھراپردیش 18.8 فیصد ، ٹاملناڈو 17.7 فیصد اور کیرالا میں 15.9 فیصد افراد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔1/k/m/b