نئی دہلی :مختار انصاری کے بڑے بھائی افضل انصاری کو سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف ملا ہے۔ عدالت نے گینگسٹر کیس میں 4 سال قید اور اس کی سزا پر عبوری روک لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ افضل انصاری کی درخواست پر 30 جون 2024 تک سماعت مکمل کر کے اپنا فیصلہ سنائیں۔ افضل نے غازی پور کی عدالت کی طرف سے دی گئی سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔سپریم کورٹ نے فی الحال ان کی چار سال کی سزا پر روک لگا دی ہے۔ جس کے بعد نااہل ہونے والے قائد کی بحالی کا راستہ کھل گیا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ وہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے نہ تو ووٹ دے سکیں گے اور نہ ہی الاؤنس حاصل کر سکیں گے، لیکن وہ ایوان کی کارروائی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ افضل انصاری کو گینگسٹر کیس میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کی وجہ سے وہ یکم مئی کو اپنی رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔افضل انصاری پانچ بار ایم ایل اے اور دو بار ایم پی رہ چکے ہیں۔ قواعد کے مطابق اگر کسی عوامی نمائندے کو دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا ہو جائے تو وہ پارلیمنٹ یا اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہو جاتا ہے۔