بھوپال : کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) نے آج مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات کیلئے اپنا انتخابی منشور جاری کیا۔ سی پی آئی کے مدھیہ پردیش ریاستی شریک سکریٹری کامریڈ شیلیندر شیلی نے یہاں دیگر عہدیداروں کی موجودگی میں انتخابی منشور جاری کیا۔ پارٹی نے منشور میں اسمبلی انتخابات کیلئے عوام کے بنیادی مفادات سے متعلق مسائل کے تئیں اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ سی پی آئی نے 9 سیٹوں پر امیدواروں کو میدان میں اتاراہے ۔ سی پی آئی کے انتخابی منشور کے اہم مسائل میں سب کیلئے مساوی، معیاری اور مفت تعلیم، ریاستی بجٹ میں اس کیلئے چھ فیصد کی فراہمی، سب کیلئے باعزت روزگار کی گارنٹی، کنٹریکٹ سسٹم کا خاتمہ، کنٹریکٹ ورکرز کو مستقل کرنا، مساوی تنخواہ کو یقینی بنانا شامل کیا گیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ سب کی کم از کم تنخواہ 25000 روپے ، درجہ چہارم کی آسامیوں پر مستقل سرکاری تقرریاں کرکے ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کرنا۔ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو دوبارہ شروع کرنا۔ سب کیلئے مفت اور باعزت مکان کی گارنٹی جیسی چیزیں بھی اس میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جامع زمینی اصلاحات، ہر بے زمین خاندان کو 10 ایکڑ زمین کامالکانہ حقوق فراہم کرنا۔ جامع انتخابی اصلاحات کرتے ہوئے زرعی لاگت سے ڈیڑھ گنا سپورٹ پرائس فراہم کرنا۔ ای وی ایم کو منسوخ کرنا اور متناسب نظام کے ذریعے انتخابات کا انعقاد، سب کیلے معیاری اور مفت صحت کی سہولیات کو یقینی بنانا۔ تشدد سے آزادی، خواتین، بچوں، دلتوں، قبائلیوں اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت۔ شہری علاقوں میں بھگت سنگھ ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ لا کر سب کو روزگار کی ضمانت فراہم کرنا۔ بھوپال کے تمام گیس متاثرین کو زیادہ سے زیادہ معاوضہ، مفت طبی علاج، بے سہارا افراد کو ماہانہ 3000 روپے سماجی تحفظ پنشن فراہم کرنے جیسے مسائل کو اس میں شامل کیا گیا ہے ۔ سی پی آئی نے گوالیار سے کوشل کشور شرما، گڑھ سے لال منی ترپاٹھی، چرہٹ سے آنند پانڈے ، سنگرولی سے مہیش پرتاپ سنگھ، دیوسر سے شیوکلی ساکیت، بڑوارہ سے سریش کول، بیہر سے اشوک مسیح، نریلا سے امین الحق صدیقی اور راج پور سے سکھلال گورے کو انتخابی میدان میں اتارا ہے ۔