مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے 4 فیصد مسلم تحفظات کو منسوخ کرنے کا چیف منسٹر کو چیلنج کیا

   


بصورت دیگر بی جے پی کی حکومت قائم ہونے پر مذہبی تحفظات کو منسوخ کرنے قبائلوں کو 10 فیصد تحفظات دینے کا اعلان کیا

حیدرآباد ۔ 17 ستمبر (سیاست نیوز) مرکزی وزیرسیاحت جی کشن ریڈی نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو 4 فیصد مسلم تحفظات منسوخ کرتے ہوئے قبائلوں کو 10 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا چیلنج کیا بصورت دیگر بی جے پی کو اقتدار حاصل ہونے پر پہلے ہی دن 4 فیصد مسلم تحفظات کو منسوخ کرتے ہوئے قبائلوں کو 10 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے آج قبائلوں کو 10 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اندرون ہفتہ جی او جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اس پر عمل کرنے یا خودکشی کرنے کیلئے تیار رہنے کا مرکزی حکومت کو مشورہ دیا جس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جی کشن ریڈی نے کہا کہ اگر چیف منسٹر کے سی آر کو ہمت ہے تو وہ ریاست میں عمل ہونے والے 4 فیصد مذہبی تحفظات کو منسوخ کردیں اور قبائلوں کو 10 فیصد تحفظات فراہم کریں۔ اس معاملے میں مرکزی حکومت مکمل تعاون و حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات ہیکہ 50 فیصد سے زیادہ تحفظات تجاوز نہیں ہونی چاہئے۔ اگر چیف منسٹر کے سی آر قبائلوں کی ترقی و بہبود کیلئے سنجیدہ ہے تو وہ 4 فیصد مسلم تحفظات کو ختم کردیں اور قبائلی طبقہ کے 6 فیصد تحفظات کو توسیع کرکے 10 فیصد کردیں۔ مذہبی تحفظات دستور کی خلاف ورزی ہے۔ ہائیکورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں اس کا حوالہ دیا تھا لیکن اس وقت کے چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کیا تھا۔ مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے چیف منسٹر کے باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے دھوکہ نہ کھانے کا قبائلی طبقات کو مشورہ دیا ہے۔ن