مساجد کی شہادت کے خلاف جنتر منتر پر مسلم جماعتوں اور جہدکاروں کا دھرنا

   

قائدین اور جہدکاروں کو حراست میں لے لیا گیا، ارکان پارلیمنٹ اقراء حسن، محب اللہ ندوی، ضیاء الرحمن برق، محمد ادیب اور سعادت اللہ حسینی کی شرکت
حیدرآباد 29 ستمبر (سیاست نیوز) ملک میں مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے خلاف نئی دہلی کے جنتر منتر پر مسلم تنظیموں نے مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمس کے بیانر تلے احتجاج منظم کیا۔ پولیس نے مسلم قائدین اور احتجاجیوں کو حراست میں لے لیا۔ ملک میں مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کو مسلسل نشانہ بنانے کے خلاف مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمس نے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ احتجاج میں مسلم تنظیموں، سیول سوسائٹی، وکلاء، متفکر شہریوں اور مختلف طبقات سے وابستہ عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ احتجاجیوں نے مساجد، چرچس اور دیگر عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے دستور اور جمہوریت کی پامالی سے تعبیر کیا۔ دہلی پولیس نے کئی سرکردہ قائدین کو حراست میں لے لیا جن میں لوک سبھا ارکان اقراء حسن، محب اللہ ندوی، ضیاء الرحمن برق، نائب امیر جماعت اسلامی ہند ملک معتصم خان، ایس آئی او کے قومی صدر عبدالحفیظ کے علاوہ طلبہ قائدین، جہدکار اور دوسرے شامل ہیں۔ اِن تمام کو دہلی کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں منتقل کیا گیا۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر جناب سید سعادت اللہ حسینی نے احتجاج میں حصہ لیا اور اِس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو منصوبہ بند انداز میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ قانون کی حکمرانی کی پرواہ کئے بغیر مخصوص طبقہ کی عبادت گاہیں حکومت کے نشانے پر ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ناانصافی کے خلاف پرامن اور جمہوری انداز میں احتجاج کی اجازت نہیں ہے۔ سابق رکن راجیہ سبھا اور آئی ایم سی آر کے صدر محمد ادیب نے کہاکہ احتجاجی پروگرام کے باعث حکام کو اطلاع دی گئی تھی۔ پرامن مظاہرے کے فیصلہ کے باوجود پولیس نے احتجاجیوں اور قائدین کو حراست میں لیتے ہوئے جمہوری انداز میں آواز اُٹھانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ جمہوری احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ رکن پارلیمنٹ اقراء حسن نے کہاکہ پرامن احتجاج کو خطرہ تصور کرنا افسوسناک ہے۔ شہریوں کو اپنے مسائل پیش کرنے کی دستور نے اجازت دی ہے۔ منتظمین کے مطابق سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ قائدین نے ملک میں SIR مہم کے تحت الیکشن کمیشن کی بے قاعدگیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ منتظمین نے اعلان کیاکہ دستوری حقوق، مذہبی آزادی اور سماجی انصاف کیلئے پرامن احتجاج اور جدوجہد جاری رہے گی۔ مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمس نے پولیس اور حکام کے رویہ کی مذمت کی۔V/1