مسجد کی اراضی پر غیر مجاز مندر کرنے والوں کے خلاف کارروائی پر زور

   


موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ پر اقدامات ، وقف بورڈ عہدیداروں کا ڈی سی پی شلپا ولی کے ساتھ اجلاس
حیدرآباد۔17 ۔اکٹوبر(سیاست نیوز) مسجد قطب شاہی ملکم چیروو کی اراضی پر کی گئی غیر مجاز مندر کی تعمیر اور دیوار توڑ کر مسجد کی اراضی میں داخل ہونے والو ںکے خلاف کاروائی کے علاوہ موقوفہ جائیداد کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اندرون دو یوم مسئلہ کا خوشگوار حل ہونے کی توقع ہے ۔ صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان کے ہمرا ہ رکن اسمبلی جناب کوثر محی الدین ‘ جناب ذاکر حسین جاوید‘ جناب خواجہ معین الدین کے علاوہ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے ڈی سی پی شلپا ولی کے دفتر میں منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے اس موقع پر موجود محکمہ مال کے عہدیداروں پر واضح کیا کہ سروے نمبر 82 میں موجود جملہ اراضی جو کہ 34 گنٹہ ہے وہ خالص موقوفہ ہے اور اس جائیداد کا گزٹ میں اندراج موجود ہے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ 6مارچ 2022کو اس اراضی میں ضلع کلکٹر نے 18گنٹے اراضی سرکاری قرار دیتے ہوئے مندر کے ذمہ داروں کو حوالہ کرنے کے احکام جاری کئے تھے جو کہ غلط ہیں۔ انہو ںنے اس موقع پر موجود آرڈی او ضلع رنگاریڈی چندرکلا کو ایک مکتوب حوالہ کرتے ہوئے سروے رپورٹ اور گزٹ کی نقولات پیش کی اور کہا کہ وقف جائیداد وں کے تحفظ کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی ضلعی کمیٹیوں کے نگران و صدرنشین کلکٹر ہوتے ہیں لیکن اس معاملہ میں ضلع کلکٹر نے خود وقف جائیدادکو سرکاری قراردیتے ہوئے 18گنٹہ اراضی مندر کے ذمہ داروں کو حوالہ کرنے کے اقدامات کئے ہیں۔ انہو ںنے محکمہ مال اور پولیس کے عہدیداروں کو حقائق سے واقف کرواتے ہوئے ضلع کلکٹر کے 6مارچ 2022 کو جاری کئے گئے احکامات سے دستبرداری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فوری طور پر ان لوگوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا جائے جنہوں نے مسجد کے حصار کو توڑتے ہوئے مسجد کی اراضی میں مندر کی تعمیر کی کوشش کی ہے۔ صدرنشین کے ہمراہ موجود اراکین وقف بورڈ جناب کوثر محی الدین اور جناب ذاکر حسین جاوید‘ویجلنس آفیسر جناب خواجہ معین الدین کے علاوہ دیگر عہدیدارو ںنے وقف ایکٹ کے متعلق تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے مسجد کی اراضی کی ازسر نو حصار بندی کو یقینی بنانے کے اقدامات کی راہ ہموار کرنے کا مطالبہ کیا محکمہ مال کے عہدیداروں نے وقف بورڈ اور پولیس کے عہدیدارو ںکو تیقن دیا کہ وہ اس معاملہ میں اپنے ریکارڈس کی تنقیح کے ساتھ فوری اقدامات کا آغاز کریں گے۔م