مسلم تحفظات کے خلاف نریندر مودی اور امیت شاہ گمراہ کن پروپگنڈہ بند کریں

   

وزیراعظم کو محمد علی شبیر کا مکتوب، سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست داخل کرنے پر غور

حیدرآباد ۔ 24۔ مئی (سیاست نیوز) حکومت کے مشیر برائے اقلیت و پسماندہ طبقات محمد علی شبیر نے وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مسلم تحفظات کے بارے میں گمراہ کن پروپگنڈہ سے گریز کا مشورہ دیا ۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے نریندر مودی کو روانہ کردہ تین صفحات پر مشتمل مکتوب جاری کیا جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ 4 فیصد مسلم تحفظات مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ مسلم تحفظات کے خلاف گمراہ کن بیانات جاری رکھیں گے تو ان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی ۔ تحفظات کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے ، لہذا کسی کو اس بارے میں تبصرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ انتخابی تقاریر کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کیلئے مسلم تحفظات کے بارے میں گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش اور تلنگانہ میں مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر تحفظات فراہم نہیں کئے گئے اور موجودہ تحفظات کو غیر دستوری قرار دینا ٹھیک نہیں۔ محمد علی شبیر نے متحدہ آندھراپردیش میں تحفظات کی فراہمی سے متعلق مکمل تاریخ بیان کی اور کہا کہ 1989 ء میں مسلم تحفظات کی فراہمی کے عمل کا آغاز ہوا تھا اور وہ اس میں سرگرم رول ادا کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں مسلمانوں کے تعلیمی ، معاشی اور سماجی سروے کے بعد 14 گروپس کو بی سی ای زمرہ میں شامل کرتے ہوئے تحفظات کا مستحق قرار دیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 4 فیصد مسلم تحفظات سے ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی کے تحفظات میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ۔ 2004 میں کانگریس حکومت نے انتخابی وعدہ کے مطابق 5 فیصد تحفظات پر عمل آوری شروع کی تھی۔ مسلم گروپس کیلئے علحدہ ای زمرہ قائم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی تحفظات 46 فیصد ہیں جن میں ایس سی 15 فیصد ، ایس ٹی 6 فیصد اور بی سی تحفظات 25 فیصد ہیں جو اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ہائی کورٹ نے 50 فیصد تحفظات کی حد برقرار رکھنے کیلئے 5 فیصد تحفظات کو کالعدم کردیا جس کے بعد کانگریس حکومت نے 4 فیصد تحفظات فراہم کئے۔ انہوں نے کہا کہ 4 فیصد بی سی ای تحفظات کو مسلم تحفظات قرار دینا درست نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کے پسماندہ گروپس کے لئے فراہم کئے گئے۔ 4 فیصد تحفظات کا معاملہ سپریم کورٹ کے دستوری بنچ پر زیر التواء ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ اپنے بیانات کے ذریعہ مقدمہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ محمد علی شبیر اس مقدمہ کے فریق ہیں ، لہذا وہ دونوں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست داخل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے بی سی کمیشن اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کا حوالہ دیا جس میں مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات کی تائید کی گئی ۔ 1