مسلم جماعتیں مدرسہ سروے کے خلاف عوام کو متحد کریں گی

   

لکھنؤ: اتر پردیش میں مسلم مرکزی جماعتیں اب ایک مہم چلائیں گی اور مدارس کے سروے کی مخالفت کیلئے لوگوں کو متحرک کریں گی۔اس اقدام کا حصہ بننے والی جماعتوں میں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین، پیس پارٹی اور راشٹریہ علماء کونسل شامل ہیں۔ مجلس کی ریاستی یونٹ کے صدر شوکت علی پہلے ہی مختلف اضلاع میں اس مسئلے پر مسلم طبقے کے لوگوں کو متحرک کرنے اور پارٹی کیڈر کو تیار کرنے کیلئے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجلس کے سربراہ اسد الدین اویسی نے مدارس کے سروے کومنی این آر سی قرار دیا ہے اور الزام لگایا ہیکہ یوپی حکومت سروے کے نام پر مسلم طبقے کو ہراساں کررہی ہے۔پیس پارٹی کے سربراہ محمد ایوب نے کہا کہ پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے مشرقی یوپی کے اضلاع میں بیداری مہم شروع کی ہے تاکہ مدرسہ سروے پر بی جے پی حکومت کے حکم کے بارے میں عوام کو روشناس کیاجاسکے۔ انہوں نے مشاہدہ کیاکہ یہ اس مسئلے پر ہندو اور مسلم برادریوں کو منتشر کرنے کا منصوبہ ہے۔ اتر پردیش کی حکومت جانتی ہیکہ مسلم کمیونٹی کے کمزور طبقے کے لوگ اپنے وارڈوں کو باقاعدہ اسکولوں میں داخل کروانے کی مالی حالت میں نہیں ہیں۔ عطیات کی مدد سے مدرسہ انتظامیہ طلباء کو مفت تعلیم، کھانا اور رہائش کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔تعلیم ہر بچے کیلئے حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے مدارس کو بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر مولانا عامر رشادی مدنی نے کہا کہ ریاست بھر میں مدارس کے سروے پر مسلم طبقوں میںبے چینی پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا مدارس چلانے والی مسلم تنظیموں کو ریاستی حکومت کے حکم کی مخالفت کیلئے ہاتھ ملانا چاہئے۔ یہ مسلم کمیونٹی کے خلاف ایک سازش ہے اور ہمیں مدرسوں کو بند کرنے کے حکومتی منصوبے کو چیلنج کرنے کیلئے ایک ورک پلان تیار کرنا ہو گا۔