بی جے پی اور مجلس سے چوکسی کا مشورہ، ووٹ کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ کا امکان
حیدرآباد۔/3 جنوری، ( سیاست نیوز) آئندہ عام انتخابات سے قبل سیکولر طاقتوں کو متحد کرنے کی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار نے آج مختلف مسلم تنظیموں، مسلم دانشوروں اور عمائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ وہ مسلم ووٹ کی تقسیم کو روکنے کیلئے بی جے پی اور مجلس سے مسلمانوں کو باخبر کرنا چاہتے ہیں۔ اجلاس میں نتیش کمار نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ بی جے پی اور مجلس کا شکار نہ ہوں جوکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ چیف منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں جنتا دل یونائٹیڈ کے مسلم قائدین کو مدعو نہیں کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ نتیش کمار نے اجلاس میں اندیشہ ظاہر کیا کہ بی جے پی عام انتخابات سے قبل سرگرم ہوسکتی ہے اور وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے مسلم دانشوروں سے اپیل کی کہ پھوٹ ڈالنے والی طاقتوں سے چوکس رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مجلس سے چوکس رہنا چاہیئے جو بقول ان کے بی جے پی کی بی ٹیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسد اویسی جیسے قائدین نفرت انگیز ریمارکس کے ذریعہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول بگاڑ رہے ہیں جس کے نتیجہ میں مسلم ووٹس تقسیم ہورہے ہیں۔ جنتا دل یونائٹیڈ کے قائد نے کہا کہ گذشتہ 18 برسوں میں بہار میں مسلمانوں کی ترقی و فلاح بہبود کیلئے ان کی حکومت نے کئی اقدامات کئے۔ 2020 میں بہار کے اسمبلی چناؤ میں مسلم ووٹوںکی تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے نتیش کمار نے بتایا کہ سیمانچل میں مجلس نے کئی امیدوار کھڑا کئے تھے جس کے نتیجہ میں مسلم ووٹ تقسیم ہوگئے۔ نتیش کمار چاہتے ہیں کہ بی جے پی کے خلاف مسلم ووٹ متحد کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ بینک میں تقسیم سے بھگوا پارٹی کو عام انتخابات میں فائدہ ہوگا۔ چیف منسٹر بہار قومی سطح پر بی جے پی کو شکست دینے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی مہم پر ہیں۔ انہوں نے کانگریس، این سی پی، عام آدمی پارٹی، جنتا دل سیکولر اور سی پی آئی ایم کے قائدین سے چند ماہ قبل مذاکرات کئے۔ر