ریاستی وزیر سرینواس گوڑ کو چیف منسٹر کا جواب، مسلمانوں کی ناراضگی دور کرنے چیف منسٹر سے مداخلت کی اپیل ، کے سی آر کو مجلس پر بھروسہ
حیدرآباد ۔6۔نومبر (سیاست نیوز) ’’مسلم ووٹ کے بارے میں فکر کی ضرورت نہیں، میں نے اسد بھائی سے بات کرلی ہے اور وہ اضلاع میں مسلم ووٹ کا انتظام کریں گے‘‘۔ چیف منسٹر اور بی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے وزیر اکسائز سرینواس گوڑ کو یہ تیقن اس وقت دیا جب انہوں نے فون پر شکایت کی کہ محبوب نگر میں مسلمان بی آر ایس سے دور ہوچکے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے سی آر پارٹی کی انتخابی مہم کے دورہ پر تھے کہ راستہ میں محبوب نگر سے وزیر اکسائز سرینواس گوڑ کا فون کال موصول ہوا۔ ریاستی وزیر کے فون کال کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق سرینواس گوڑ نے کے سی آر سے شکایت کی کہ محبوب نگر میں مسلمان اس مرتبہ بی آر ایس کی تائید کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ کانگریس کے کمزور موقف کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت کا جھکاؤ کانگریس کی طرف ہے۔ سرینواس گوڑ نے چیف منسٹر سے درخواست کی کہ مسلمانوں کو کانگریس کے قریب جانے سے روکنے کیلئے کسی پیاکیج کا اعلان کریں تاکہ انتخابی مہم میں مسلمانوں سے وعدے کئے جاسکیں ۔ وزیر اکسائز کے درد کو سننے کے بعد کے سی آر نے انہیں دلاسہ دیا اورکہا کہ آپ کو مسلم ووٹ کے بارے میں فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے اسد بھائی سے بات کرلی ہے اور مسلمانوں کے ووٹ بی آر ایس کو حاصل ہونے کے تمام انتظامات کردیئے گئے ہیں۔ چیف منسٹر کے اس تیقن سے سرینواس گوڑ وقتی طور پر مطمئن تو ہوگئے لیکن محبوب نگر اسمبلی حلقہ میں انہیں مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے میں سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔ مقامی مسلمانوں کو اس بات کی شکایت ہے کہ سرینواس گوڑ نے قیمتی اور اوقافی اراضیات اور جائیدادوں پرکنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ کے سی آر اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن محبوب نگر میں حکومت کے نمائندوں نے اوقافی جائیدادوں پر قبضہ کیا ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے سرینواس گوڑ سے ہوئی بات چیت اور مسلمانوں کی ناراضگی کے بارے میں بی آر ایس امیدواروں کی تشویش کا انکشاف کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی بی آر ایس سے دوری کی شکایت صرف محبوب نگر تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر اضلاع سے بھی پارٹی امیدوار مسلمانوں کی ناراضگی دور کرنے کیلئے چیف منسٹر سے درخواست کر رہے ہیں۔ کے سی آر نے ریاستی وزراء کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بی آر ایس سے قریب کرنے کی کوشش کریں۔ بی آر ایس قیادت کو اپنی پارٹی کے اقلیتی قائدین پر بھروسہ نہیں ہے اسی لئے انتخابی مہم میں پارٹی کے اقلیتی قائدین کو اہم ذمہ داریاں نہیں دی گئیں۔ کے سی آر کا مسلم ووٹ کے بارے میں مکمل انحصار صدر مجلس اسد اویسی پر ہے۔ یہ بھروسہ کس حد تک رنگ لائے گا اور بی آر ایس کو فائدہ ہوگا، اس کا اندازہ نتائج کے بعد ہوگا۔