مسلمانوں میں بگاڑ کی ایک وجہ مادری زبان کا گھر سے غائب ہونا

   

حیدرآباد۔15۔جون(سیاست نیوز) زبان کا خاتمہ تہذیب کے خاتمہ کے مترادف ہے اسی لئے اپنی زبان اور تہذیب کے تحفظ کر یقینی بناتے ہوئے حالات کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اردو‘ فارسی اور عربی ایسی زبانیں ہیں جن کی اپنی تاریخ اور تہذیب ہے اور انہیں ہونے والے نقصان کو بچانے کے لئے مسلمانوں کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔جامعہ عثمانیہ میں شعبہ اردو ‘ فارسی ‘ عربی اور اسلامک اسٹڈیز میں داخلوں کو یقینی بناتے ہوئے ان شعبہ ٔ جات کو بند ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔جامعہ عثمانیہ کے یونیورسٹی آرٹس کالج میں تعلیم کا حصول کسی اعزاز سے کم نہیں ہے اسی لئے طلبہ کو ان کالجس میں داخلہ حاصل کرتے ہوئے جامعہ میں موجود ان شعبۂ جات کو بند ہونے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔شعبہ ٔ اردو‘ عربی ‘ فارسی ‘ اسلامک اسٹڈیز مجموعی اعتبار سے مسلم طلبہ سے ہی چلتے ہیں اور اگر ان شعبۂ جات کے ساتھ ہونے والی ناانصافی یا انہیں بند ہونے سے بچانا ہے تو ایسی صورت میں مسلم نوجوانوں اور ذمہ داروں کو ان شعبہ جات میں پوسٹ گریجویٹ داخلوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یونیورسٹی آرٹس کالج میں موجود ان شعبہ جات میں داخلوں کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کیا جاچکا ہے اور جو طلبہ ماسٹر آف آرٹس کرنا چاہتے ہیں وہ راست یونیورسٹی کالج میں داخلہ حاصل کرسکتے ہیں ۔حکومتوں کی مسلمانوں اور ان کی تعلیم کے متعلق شکایات کے بجائے اگر مسلم سماج کے ذمہ دار بالخصوص اردو‘ عربی‘ اسلامک اسٹڈیز کے علاوہ فارسی زبانوں سے محبت رکھنے والے ان شعبوں کو بند ہونے سے بچانے کے لئے سرگرم ہوتے ہوئے اپنی تہذیب و تمدن کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔م