آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے صدر مولانا بدرالدین اجمل کا مطالبہ
گوہاٹی : آسام کے دارالحکومت گوہاٹی میں حال ہی میں بنگلہ دیش میں مقیم دہشت گرد گروپ انصار الاسلام سے تعلق رکھنے والے 12دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اب اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ اور ممبرپارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے اس معاملے میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے لوگوں کی وجہ سے پوری مسلم کمیونٹی کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ یہ جہاد نہیں ہے،بلکہ یہ دہشت گردی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے میں دہشت گرد کو گولی مار دی جائے۔ ان کیلئے سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ بدرالدین اجمل نے کہا کہ پوری مسلم کمیونٹی کو دہشت گردوں کی وجہ سے جہادی کہا جاتا ہے۔حکومت کو انہیں روکنا ہوگا۔ حکومت اپنی سرحدوں کی حفاظت کرے اور اپنی انٹیلی جنس کو مضبوط کرے۔ہمیں ان (مدارس میں برے عناصر) سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ وہ جہاں بھی ملیں ، گولی مار دی جائے۔ اگر مدارس میں ایک یا دو برے اساتذہ پائے جائیں تو حکومت انہیں تحویل میں لے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جو چاہے کرے۔ دوسری طرف آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ بدرالدین اجمل نے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن پر معیشت کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ ہندوستان کا پیسہ وزیر خزانہ کے پاس ہے۔مرکز پر سخت تنقید کرتے ہوئے، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت کو ضروری اشیاکی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے ورنہ 2024 میں مہنگائی ان کی حکومت کو کھا جائے گی۔