معاشی ترقی میں بہتری والی ریاستوں میں قابل لحاظ تنخواہوں کی ادائیگی

   

نئی دہلی، کرناٹک، مہاراشٹرا اور تلنگانہ میں 30 تا 35 ہزار اوسط تنخواہ، غیر منظم اور اسکل ورکرس کی ترجیح
حیدرآباد 23 جون (سیاست نیوز) ریاستوں کی معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع کا تعین کرنے مختلف شعبہ جات میں تنخواہوں کی ادائیگی سے کیا جاسکتا ہے۔ ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں میں اوسط تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق سروے کیا گیا جس میں دہلی، کرناٹک، مہاراشٹرا اور تلنگانہ میں دیگر ریاستوں کے مقابلہ زائد تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خانگی شعبہ میں ملازمین کو دی جانے والی اوسط تنخواہوں کے اعتبار سے مذکورہ ریاستوں کی معاشی ترقی اور روزگار کے حصول کے لئے امیدواروں کے دیگر علاقوں سے نقل مقام کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ سروے کے مطابق نئی دہلی، کرناٹک، مہاراشٹرا اور تلنگانہ میں دیگر ریاستوں سے روزگار کے لئے لاکھوں کی تعداد میں غیر منظم ورکرس نے نقل مقام کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبہ جات سے متعلق عالمی اداروں نے بھی سرمایہ کاری کے لئے مذکورہ ریاستوں کو ترجیح دی ہے۔ آئی ٹی، آرٹیفشل انٹلی جنس اور دیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری کی اہم وجہ ریاستوں کی جانب سے دی جارہی سہولتیں اور مراعات ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ نئی دہلی میں ملازمین کی اوسط تنخواہ 35 ہزار روپئے ہے جبکہ کرناٹک میں 33 ہزار، مہاراشٹرا 32 ہزار اور تلنگانہ میں ماہانہ اوسط تنخواہ 31 ہزار روپئے ہے۔ مہاراشٹرا کے مقابلہ نئی دہلی میں پڑوسی ریاستوں سے غیر منظم اور اسکل ورکرس کے نقل مقام میں حالیہ برسوں میں اضافہ کی اہم وجہ لسانی عصبیت کے بڑھتے واقعات بتائے جاتے ہیں۔ کرناٹک اور تلنگانہ کا شمار اُن ریاستوں میں ہے جہاں لسانی عصبیت کا کوئی تصور نہیں ہے اور کسی بھی ریاست سے آنے والے متلاشیان روزگار کو گلے لگایا جاتا ہے۔ اسکل ڈیولپمنٹ، ٹیکنالوجی، فینانس اور سرویس سیکٹرس میں بہتر تنخواہوں کی پیشکش کے سبب دیگر ریاستوں کے پروفیشنلس تلنگانہ اور کرناٹک کا رُخ کررہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی اور دیگر شعبہ جات کے اہم مراکز میں ملازمین کو زائد تنخواہ کی پیشکش کی جارہی ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں اوسط تنخواہ کے تعین کے ذریعہ علاقائی سطح پر معاشی سرگرمیوں میں واضح طور پر فرق دکھائی دے رہا ہے۔ ہریانہ، اترپردیش، مغربی بنگال، گجرات اور پنجاب میں اوسط تنخواہیں 25 تا 30 ہزار ماہانہ درج کی گئی ہیں جبکہ اوسطاً تنخواہوں والی ریاستوں میں تریپورہ، آسام، اروناچل پردیش، سکم، چھتیس گڑھ، اڈیشہ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔V/1/k/b