تعلیمی قابلیت اور سماجی موقف کا جواز ، بے کار نوجوانوں کے لیے مشعل راہ
نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جولائی : ملک میں بے روزگاری کا گراف تیزی سے بلند ہورہا ہے ۔ دوسری طرف ایک نیا اور فکر انگیز رجحان ابھر کر سامنے آرہا ہے کہ کئی تعلیمیافتہ نوجوان ملازمتوں کے مواقع دستیاب ہونے کے باوجود کام کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ دستیاب نوکریاں ان کی تعلیمی قابلیت سماجی مقام ( سماجی موقف ) کے مطابق نہیں ہے ۔ اس طرح کے جواز پیش کرتے ہوئے خالی رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں یا سوشیل میڈیا پر مصروف رہنے کے علاوہ دوستوں کے ساتھ قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں جب کہ ان کے تمام جسمانی اعضاء درست ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں کررہے ہیں ۔ اس رجحان کی ایک وجہ سوشیل میڈیا پر دکھائی جانی والی Glamour Life بھی ہے جہاں ہر نوجوان جلد از جلد دولت مند بننے یا باس بننے کے خواب میں جی رہا ہے ۔ ایسے نوجوانوں کے لیے ایک پیر سے پیدائشی طور پر معذور ناگا راجو کی زندگی قابل تقلید اور زندہ مثال ہے ۔ ڈگری تک تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ملازمت نہ ملنے پر حیدرآباد کی مصروف ترین سڑکوں پر ٹریفک مسائل کو عبور کرتے ہوئے روزانہ 100 کلو میٹر کا سفر کرتے ہوئے ایک مقام سے دوسرے مقام تک فوڈ ڈیلوری کا کام کررہا ہے ۔ جب اس معذور شخص ناگاراجو سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ ضلع سوریہ پیٹ کے موضع ناڈی گڈم کا متوطن ہے ۔ پیدائشی طور پر وہ ایک پیر سے معذور ہے ڈگری تک تعلیم حاصل کی ۔ گاؤں میں زندگی گزارنے کے لیے کوئی ملازمت نہیں ملی ۔ تین سال قبل اپنی بیوی اور دو چھوٹے بچوں کو لے کر بالنگر منتقل ہوگیا ۔ بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے فوڈ ڈیلیوری ادارہ زوموٹو سے جڑ گیا ۔ بائیک پر روزانہ 25 مقامات جیسے بنجارہ ہلز ، جوبلی ہلز ، امیر پیٹ ، پنجہ گٹہ ، موسیٰ پیٹ ، خیریت آباد ، نامپلی کے علاوہ دیگر علاقوں کا 100 کلو میٹر تک سفر کرتے ہوئے فوڈ ڈیلیوری گھروں تک پہونچا رہا ہوں ۔ اگر انہیں کوئی بنک سے قرض دلاتے ہیں وہ اپنا ذاتی کاروبار کرنے کے بارے میں غور کرے گا ۔۔ 2