بروسلز: شاہ ایران کے بڑے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی نے مغربی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے ہونے والی کوششوں کا ساتھ دیں۔عرب نیوز کے مطابق رضا پہلوی جو آج کل یورپ میں ہیں اور اپنے ملک کے نوجوان سماجی کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں، نے اخبار دی گارڈین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کو ایران کی پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیموں میں ڈالنا چاہیے اور ایرانی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ پر عائد بندشیں ختم کروانے میں عوام کی مدد کرے۔’اس وقت انقلاب کی سی کیفیت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ’مارو یا مر جاؤ‘ والا معاملہ ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران میں عوام آج آمریت مردہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں گولیاں ماری جا رہی ہیں، اگر گولیوں سے بچ جائیں تو قید کر دیے جاتے ہیں اور سخت تشدد کے بعد سزائے موت دے دی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ کھڑے ہیں۔‘رضا پہلوی کے مطابق ’دنیا کو عام ایرانیوں کا ساتھ دے کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔‘رضا پہلوی جن کو اکثر ولی عہد بھی کہا جاتا ہے، کا کہنا تھا کہ ’اگر تہران کی حکومت پر بیرون ملک اور اندر سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے تو اصلاح پسند سیاست اور پاسداران انقلاب اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔‘انہوں نے کہا کہ اب تک مغربی حکومتیں اس وجہ سے پاسداران انقلاب پر پابندیاں لگانے سے کتراتی رہی ہیں کہ کہیں اس سے ممکنہ مشترکہ پلان آف ایکشن یا جوہری معاہدے کا معاملہ متاثر نہ ہو جائے۔