محصولات کی وصولی اور بدعنوانیوں پر قابو پانے کا مثبت نتیجہ، سویندو ادھیکاری حکومت کا دعویٰ
کولکاتہ، 12 جولائی (یو این آئی) مغربی بنگال میں وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کی قیادت والی نئی بی جے پی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے پہلے ایک ماہ میں ریاست کی آمدنی گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے زیادہ رہی۔وزیر اعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) کے ذرائع کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ کوئی نیا ٹیکس عائد کرنے کے بجائے محصولات کی وصولی میں موجود ادارہ جاتی خامیوں اور بدعنوانی پر قابو پانے کے نتیجے میں ہوا ہے ۔ حکومت نے الزام لگایا کہ سابقہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت کے دور میں بدعنوانی کی وجہ سے ریاستی خزانے کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔سی ایم او کے مطابق 9 مئی سے 9 جون کے درمیان ریاست کی ریونیو وصولی گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے زیادہ رہی۔بی جے پی نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا کہ سابقہ حکومت کی اداروں میں رائج بدعنوانی ختم ہونے کے بعد ریاستی خزانہ مضبوط ہو رہا ہے ۔حکومت نے کہا کہ آمدنی میں اضافے کے اس رجحان کے آئندہ مہینوں میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے کیونکہ مزید مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے ۔ریاستی حکومت نے سابقہ حکومت پر الزام لگایا کہ ریت، کوئلہ اور پتھر کی کانوں سمیت مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر ریونیو کی خرد برد کی گئی۔ حکومت کے مطابق بربھوم ضلع کی ایک پتھر کی کان، جہاں پہلے سالانہ تقریباً 60 کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی تھی، اب ہر ماہ 80 سے 90 کروڑ روپے ریاستی خزانے میں جمع کرا رہی ہے ۔حکومت نے ان مبینہ بے ضابطگیوں کی تفصیلات پر مبنی ایک وائٹ پیپر تیار کرنے کے لیے وزیر خزانہ سواپن داس گپتا کی سربراہی میں وزارتی کمیٹی تشکیل دی ہے ، جس نے اپنی پہلی میٹنگ نبانّا میں منعقد کی۔وزیر اعلیٰ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاستی خزانے میں آنے والی رقم کو مبینہ طور پر کولکاتا کے کامک اسٹریٹ میں واقع کاروباری اداروں کے ذریعے حوالہ کے راستے دبئی اور کیریبین کے ٹیکس ہیونز میں قائم شیل کمپنیوں تک منتقل کیا جاتا تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس رقم کا ایک حصہ الیکٹورل بانڈز کے ذریعے ٹی ایم سی کے بینک کھاتوں میں پہنچایا گیا۔یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں ترنمول کانگریس سے منسلک 440 کروڑ روپے کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں۔
تاہم، ترنمول کانگریس نے اب تک ریاستی حکومت اور بی جے پی کے ان الزامات یا محصولات میں اضافے کے دعوؤں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔