یروشلم :30ستمبر ( یو این آئی) مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی گاؤں جلود میں 100 سے زائد اسرائیلی آبادکاروں نے حملہ کردیا، جس کے دوران فلسطینی عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ لگائی گئی جبکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسزکیساتھ جھڑپوں میں تین اہلکار معمولی زخمی ہوگئے۔واقعہ پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی غیر معمولی طور پر حملے کی مذمت کی ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق آبادکاروں نے سڑکیں بند کیں، ٹائر جلائے اور سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔فوج کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران فلسطینی خاندان کے گھروں اور گاڑیوں کو بھی آگ لگائی گئی، جس کے باعث اس خاندان کی اپنے گھر واپسی کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ پولیس نے ایک شخص کو گرفتار جبکہ دو کم عمر افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فوج ایک فلسطینی خاندان کو اس کے گھر واپس پہنچانے کی کوشش کر رہی تھی۔ خاندان کو تقریباً دو ماہ قبل آبادکاروں کے حملوں کے بعد اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا۔ فوج کی نگرانی میں خاندان کی واپسی شروع ہوئی، تاہم گھر پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد 100 سے زائد آبادکار وہاں جمع ہوگئے اور صورتحال کشیدہ ہوگئی۔رپورٹس کے مطابق آبادکاروں نے خاندان کے دو گھروں کو نقصان پہنچایا اور انہیں آگ لگائی۔