ملک بھر میں GenZ سے راست رابطہ کی منصوبہ بندی

   

آر ایس ایس سربراہ موہن بھگوت کا 6 اگست کو ممبئی میں طلباء سے خطاب
حیدرآباد۔4۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) جنتر منتر پر ہوئے احتجاج نے ہندوتوا تنظیموں اور قائدین میں ہلچل پیدا کردی ہے کیونکہ دہلی میں ہوئے احتجاج کے نتیجہ میں برسوں سے کی گئی آر ایس ایس اور ہندوتوا تنظیموں کی محنت پر پانی پھر گیا ہے۔آر ایس ایس جنتر منتر پرہونے والے احتجاج کے دوران نوجوان نسل بالخصوص GenZ کی حمایت والے بیانات جاری کرتے ہوئے ان سے کسی بھی طرح کی مخالفت مول لینے سے اجتناب کرتی رہی اور اب جو منصوبہ تیار کیاگیا ہے اس کے مطابق آر ایس ایس نے ملک بھر میں GenZ اور GenAlpha سے رابطہ استوار کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے۔ بتایاجاتاہے کہ آ ر ایس ایس نے ملک کی موجودہ صورتحال اور نوجوانوں کے کردار کے پیش نظر راست طلبہ سے رابطہ کرنے کافیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق 6 اگسٹ کوآر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ممبئی میں 2000 طلبہ سے خطاب کریں گے اور ان کے سوالات کے جواب دیں گے۔ جنتر منتر پر ہوئے احتجاج کے دوران 15تا19 سال کے طلبہ کی جانب سے فرقہ واریت کو مسترد کرتے ہوئے متحدہ طور پر ملک میں پھیل رہی فرقہ وارانہ کشیدگی اور عوام کے درمیان پیدا کی جانے والی نفرت کے نظریہ سے کھل کر اختلاف کئے جانے کے بعد آر ایس ایس کے راست نوجوانوں سے ملاقات کے منصوبہ کو کافی اہمیت دی جانے لگی ہے۔ آر ایس ایس نے جنتر منترکے احتجاج کے دوران بھی طلبہ سے راست مذاکرات اور ان سے بات چیت کے نظریہ کو فروغ دینے کی باتیں کہی تھیں لیکن آر ایس ایس کی محاذی تنظیموں بالخصوص بی جے پی کی جانب سے احتجاجی طلبہ کے خلاف بیان بازی کے ذریعہ انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی اور وزیر تعلیم کی حیثیت سے دھرمیندر پردھان کے مستعفی ہونے کے بعد احتجاج میں شامل GenZ کی نشاندہی کرتے ہوئے بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد نے مخالف حکومت احتجاج کا حصہ رہنے والوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا تھا اور خود وزیر اعظم نریندر مودی نے GenZ سے راست رابطہ کے لئے ان کے انداز میں ویڈیو بنانے اور اسے سوشل میڈیا کے ذریعہ پوسٹ کرنے کا سلسلہ شروع کیا لیکن بی جے پی ‘ بجرنگ دل اور دیگر تنظیموں کی کوششوں میں ناکامی کے بعد اب خود آر ایس ایس سربراہ نے 15تا19 سال عمر کے طلبہ سے بات چیت کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ 6اگسٹ کو ممبئی میں 2000 طلبہ سے خطاب اور ان سے بات چیت کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد آر ایس ایس ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ سے ملاقات اور ان سے خطاب کے منصوبہ کی تیاری کرے گی تاکہ نوجوانوں نسل کے درمیان پہنچ کر ان سے راست بات چیت کے ذریعہ معاملات کو حل کیا جاسکے۔سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ منافرت اور نفرت پھیلانے کی 100 سالہ کوشش میں آر ایس ایس کی کامیابی کو 15تا20 سال کے نوجوانوں نے 30دن میں ناکام کردیا جس کے نتیجہ میں اب آر ایس ایس ہندستان میں اپنے نظریات کے فروغ اور انہیں مسلط کرنے کے معاملہ میں متفکر ہوچکی ہے اسی لئے طلبہ سے راست بات چیت کے پروگرامس کو قطعیت دی جانے لگی ہے۔3/a/b