ہلدی رام کے عملہ کا سدرشن چیانل کے صحافی کے ساتھ رویہ کی ستائش ، بلیک میل کرنے والوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔11اپریل۔ملک بھر میں مذہبی تناؤ اور فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعہ کیا حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے! ملک کی 7 ریاستوں راجستھان‘ مدھیہ پردیش‘ گجرات ‘ اترپردیش ‘ بہار ‘کرناٹک اور گوا میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ دنوں ان حالات پر قابو پانے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں بلکہ مذہبی منافرت والی طاقتیں ہر اعتبار سے کوشش کر رہی ہیں کہ ملک میںمسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے نہ صرف حلال مخالف یا حجاب مخالف مہم چلائی جا رہی ہے بلکہ مسلم نوجوانوں ‘ خواتین ‘ مساجد‘ عبادتگاہوں ‘ اذان‘ تاجرین حتیٰ کہ اردو زبان کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے ۔دستور میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کی گنجائش ہے اور جو لوگ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کر رہے ہیں دراصل وہ ملک کے خلاف سازش کے مرتکب ہورہے ہیں وہ ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں اسی لئے انکے خلاف کاروائی کی گنجائش ہے بلکہ ان لوگوںکے خلاف یو اے پی اے اور ملک کے خلاف سازش جیسے مقدمات کا بھی اندراج ممکن ہے لیکن حکومتوں کی جانب سے نظرانداز کی پالیسی اختیار کرکے کئی اہم مسائل سے عوام کی توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔ فرقہ پرست عناصر مسلمانوں کو نشانہ بناکر انہیں تکلیف دینے کی کوشش میں اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ انہیں اس بات کا بھی احساس نہیں رہا کہ وہ ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ملک بھر میں فرقہ واریت کو فروغ دینے والے ایک ٹیلی ویژن چیانل کی جانب سے مسلسل مخالف مسلم مواد کی نشریات کی جاتی رہتی ہیں اور اس کے اینکر سریش چاؤنکے کی جانب سے منافرت پھیلانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ۔ چیانل سے اشیائے خورد و نوش تیار کرنے والی کمپنی’ہلدی رام‘ کے شوروم میں ایک پیاکٹ
پر اردو زبان پر موجود تحریر پر ہنگامہ آرائی اور اس کی نشریات کو اس انداز میں پیش کیاجا رہاہے کہ ہلدی رام کمپنی سے ان پیاکٹس میں کوئی ایسی شئے کی ملاوٹ کی جا رہی ہے جسے اکثریتی طبقہ کی جانب سے استعمال نہیں کرسکتا ۔ اسی لئے اردو میں یہ تحریر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں میں جہاں مذہبی جلوسوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں ان میں بیشتر مقاما ت پر مذہبی لبادہ اوڑھے افراد سے نفرت انگیز ماحول تیار کیا گیا بلکہ حیدرآباد میں بھی جلوس کے دوران شرانگیزتقاریر کی اطلاعات ہیں لیکن کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔ کرناٹک میں حجاب سے شروع ہوا یہ معاملہ پر حلال پر امتناع کے علاوہ مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ تک پہنچ چکا ہے اور خواتین اور نوجوانوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی جانے لگی ہے۔سریش چاؤنکے جیسے اشخاص کو بطور صحافی قبول کرنا ذہنی پراگندگی ہے اور اس کی جانب سے متعدد مرتبہ نفرت پھیلانے کی کوششوں کے باوجود کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ منافرت پھیلاتا رہے ۔ اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔ کئی ریاستوں میں صحافیوں کو جیلوں میں بند کیا گیا اور معروف صحافیوں کے ملک سے باہر جانے میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں اس کے علاوہ مدھیہ پردیش میں یوٹیوبرس کو پولیس اسٹیشن میں نیم برہنہ حالت میں رکھا گیا لیکن جو شخص نہ صرف ہندو اور مسلمانوں کے درمیان دراڑ پیدا کر رہا ہے بلکہ ملک کی معیشت کی تباہی کا مرتکب ہے اور دو مذاہب کے ماننے والوں کو متصادم کرکے امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔ ہلدی رام شوروم میں عملہ کی جانب سے مذکورہ چیانل کی نمائندہ کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا اس کی مختلف گوشوں سے حوصلہ افزائی کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس طرح منافرت پھیلانے والوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے عناصر پر قابو پانے اقدامات کے ذریعہ ملک میں امن وامان کی برقراری کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت کو تباہ کن حالات کا شکار ہونے سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کرے۔م