انگریزی سامراج کے خلاف جدوجہد کی تاریخ ۔ چیف منسٹر کو کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی کا مکتوب
حیدرآباد 22 ستمبر ( سیاست نیوز) ممنور ائیرپورٹ کو مولوی علاء الدین کے نام سے موسوم کیا جائے۔ حکومت تلنگانہ بالخصوص چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ممنور ائیر پورٹ کی تعمیر اور افتتاح سے قبل اسے کس نام سے موسوم کیا جائے اس کی تجاویز طلب کرنے کا ’وائس آف تلنگانہ ‘ نے خیر مقدم کرکے کہا کہ ’مولوی علاء الدین ‘ کا تعلق متحدہ ضلع ورنگل سے ہے۔کیپٹن ایل پانڈو رنگاریڈی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو روانہ مکتوب میں خواہش کی کہ دکن حیدرآباد میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں میں شامل طرے باز خان کے ہمراہ برٹش ریسڈینسی موجودہ ویمنس یونیورسٹی کوٹھی پر حملہ کرنے والے ’مولوی علاء الدین ‘ کے نام سے ممنور ائیر پورٹ موسوم کیا جائے۔ انہو ں نے بتایا کہ مولوی علاء الدین نے جانبازی سے برٹش ریسڈینسی پر حملہ کیا تھا اور انہیں انگریزوں نے گرفتار کرلے ’کالا پانی‘ کی سزاء سنائی تھی ۔ انہوں نے حیدرآباد میں جدوجہد آزادی کی تاریخ کے حوالوں سے بیان میں بتایا کہ مولوی علاء الدین نے 17جولائی1857 کو برٹش ریسڈینسی پر حملہ کیا تھا اور اس حملہ کے بعد انہیں گرفتار کرکے ’سیلولر جیل ‘ انڈمان و نکوبار منتقل کیا گیا جہاں انہیں سزائے عمر قید سنائی گئی تھی۔ کیپٹن ایل پانڈو رنگاریڈی نے کہا کہ اس ’مجاہد آزادی‘ کے نام سے اگر ائیر پورٹ موسوم کیا جاتا ہے تو یہ بہترین خراج ہوگا کیونکہ ’مولوی علاء الدین خان‘ انگریزوں کے خلاف لڑائی میں اپنا کردار ادا کرکے عمر قید کی سزاء کاٹنے والوں میں شامل رہے۔ انہوں نے بتایا کہ مولوی علاء الدین انڈمان و نکوبار کے اولین قیدیوں میں شمار کئے جاتے ہیں انہیں حکومت بہترین خراج پیش کرسکتی ہے ۔ مولوی علاء الدین کا تعلق ورنگل سے رہا ہے اور اب ممنور ائیر پورٹ اسی ضلع میں تعمیر کیا جارہا ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے ’مجاہد آزادی‘ مولوی علاء الدین کے نام سے اس ائیر پورٹ کو موسوم کرنے کرے تاکہ آئندہ نسلوں کو یہ علم ہو کہ ’مولوی علاء الدین ‘ انگریزوں کے خلاف جدوجہد کے دوران انڈومان نکوبار سیلولر جیل جانے والوں شامل رہے اور انہوں نے ہندستان کی آزادی کیلئے 30 سال قید و بند کی زندگی گذاری اور سیلولر جیل سے رہائی کے بعد بھی انڈمان سے باہر نہیں جاسکے۔3/k/b