محمد اسد علی … ایڈوکیٹ ہائیکورٹ
موجودہ دور کی پُرآشوب سیاست ایسے نام نہاد عوام ہمدرد قائدین سے بھری ہوئی ہے جو عوام سے ہاتھ جوڑکر ووٹ مانگتے ہیں اور پھر اُن کی پیٹ میں خنجر گھونپتے ہیں ۔ عوام کی حالت زار کیا ہے اس کی اُنھیں نہ تو فکر ہے اور نہ اُنھیں عوام سے کوئی ہمدردی ہے ۔ صرف لفاظی اور چکنی چپٹی باتوں سے عوام کو پھسایا جاتا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نام نہاد قائدین اپنی شہرت اور کامیابی کیلئے شرم و حیاء اور ضمیر کو داؤ پر لگادیتے ہیں ۔ جونہی اُنھیں کامیابی ہوتی ہے وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے لگتے ہیں اور پھر ووٹ دینے والے بھولی بھالی عوام کو قطعی طورپر خاموش کردیتے ہیں جو اُنھیں کرسی پر بٹھواتے ہیں ۔ اُنھیں کو دھوکہ دیتے ہیں اور اس بات کا ضمیر فروشوں کو ذرہ برابر احساس نہیں کہ عوام الیکشن کے دن شدید دھوپ میں لائین میں گھنٹوں ٹھہرکر اُنھیں ووٹ ڈالتے ہیں جس کی وجہہ سے اُنھیں کامیابی ملتی ہے اور اُنھیں شاہانہ زندگی عزت و اقتدار حاصل ہوتا ہے اور عوام کے پیسوں سے عیش و عشرت کی زندگی گذارتے ہیں ۔
ہندوستان دستور کے مطابق ایک سیکولر ملک ہے جسے دستور سازوں نے بڑی سوچ و فکر کے ساتھ ماہرین کے مشورہ سے تیار کیا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض نام نہاد قائدین سیکولرازم کاد عویٰ کرتے ہیں اور وہ اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض نام نہاد لیڈرس کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود بھی بیروزگاری کی فوج میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے یعنی کثرت سے بیروزگاری ملک میں پھیل رہی ہے جبکہ عوام کی نصف سے زیادہ تعداد سطح غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں اور قائدین کہتے ہیں کہ وہ دن رات عوام کے مسائل کی یکسوئی میں لگے ہوئے ہیں لیکن حقیقی صورتحال اس کے برعکس ہے ۔ کیونکہ زمینی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ بیروزگاروں کی تعداد آسمان کو چھورہی ہیں ۔
حقیقی طورپر کسی نام نہاد قائدین کو پرواہ نہیں ہے ۔ ایسے لوگ اپنے عیش و آرام کے علاوہ دوسروں کی تکلیف یعنی عوامی مسائل کا رتی برابر بھی احساس نہیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے ’’جنت نشان ملک ہندوستان ‘‘ایک انتہائی افسوسناک اور سنگین صورتحال کا شکار ہے اور نام نہاد قائدین کہتے ہیں کہ وہ صرف اور صرف عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہیں۔ انتہائی اہم بات اور افسوس کی بات یہ ہے کہ تلنگانہ میں لاکھوں گریجویٹس ، ہزاروں انجینئرس ملازمت نہیں ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ افسو کی بات یہ ہے کہ قوم اور ملک کی قیادت کا دعویٰ کرنے والے بھی اس معاملے میں خود کو پیش کردہ تصویر سے برعکس ثابت کرتے ہیں ۔ یہ ایک حقیقی صورتحال ہے جس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ عام آدمی نام نہاد قائدین اور حکومت سے بدظن ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام کی طرف توجہ نہیں دیتا ہے جنھیں ایک وقت کا کھانا بھی بڑی مشکل سے حاصل ہوتا ہے ۔ عوام کی بڑی تعداد فاقہ کشی کی زندگی گذاررہے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں لیکن عوامی قائدین جن کا فریضہ عوامی مسائل کی یکسوئی ہوتا ہے وہ صرف اپنے اور اپنے خاندانوں کا ہی بھلا سوچتے ہیں ۔ آج ہندوستان بالخصوص تلنگانہ میں لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان روزگار سے محروم ہیں اور اُنھیں روزگار نہیں ہونے کی وجہ سے بعض نوجوان جرائم کی طرف جارہے ہیں جس سے نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہورہا ہے۔
ابراہم لنکن نے Democracy کا بہت صحیح Definition دیا تھا اور یہ Definition ہندوستان آزاد ہونے کے بعد 1970 ء تک عمل پیرا رہا جس کے بعد جو لیڈڑس یا Politician آزادی کے لئے لڑائی لڑے تھے اُن کا خواب تھا کہ ہندوستان کو سونے کی چڑیاں بنایا جائے ، اور اسی راستے پر کام کرتے تھے لیکن ہوا یوں جو بھی لیڈرس آہستہ آہستہ انتقال کرگئے اُس کے بعد Democracy اور Definition تبدیل ہوتا چلا گیا جس کی وجہ سے ہندوستان کی عوام میں بے چینی آگئی اور اب بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ آج کی گورنمنٹ تاناشاہی گورنمنٹ بن چکی ہے ۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جو لوگ وقف جائیدادوں پر ناجائز قبضوں پر قابض ہیں اُنھیں یہ جان لینا چاہئے کہ وقف جائیدادوں پر صرف اور صرف غریبوں ، یتیموں اور بیواؤں کاحق ہوتا ہے جو لینڈ گرابرس ، لٹیرے ، وقف کی جائیدادوں پر قبضہ کئے ہوئے ہیں اس زمین کے ساتھ یتیموں ، غریبوں ، بیواؤں کی بددعا ، غصہ ، تکلیف بھی ساتھ آتی ہے جس کی وجہ سے اُن کے گھر کا سکون ختم ہوجاتا ہے اور اولاد کو حرام لقمہ کھلانے سے اُن کی اولاد نافرمان ہوجاتی ہے اور بددعا سے اُن کے گھر تباہ ہوسکتے ہیں اور اُن کی دنیا و آخرت بھی تباہ ہوسکتی ہے ۔ ان حالات میں تلنگانہ حکومت سے گذارش ہے کہ حال ہی میں شہر کے ایک سینئر وکیل کا بڑے بے رحمانہ طریقہ سے قتل کردیا گیا اس کی تمام مکمل غیرجانبدارارانہ پاک و شفاف تحقیقات ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج سے کروانا چاہئے تاکہ قاتلوں کو کیفرکردار تک پہونچایا جاسکے اور وقف کی تمام جائیدادیں جس پر نام نہاد قائدین ، لینڈ گرابرس قابض ہیں وہ تمام جائیدادیں وقف بورڈ کے حوالے کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ لینڈ گرابر ، لٹیروں کے منہ میں لگام کسی جاسکے ۔